کتاب: حکمران بیور و کریسی اور عوام - صفحہ 236
اپنے کو عاجز پایا۔ اور اقامت دین اقامت مذہب میں بلا اور مصائب دیکھے تو گھبرا گئے اور طریقہ دین کمزور ہوگیا دین کو ذلیل سمجھ کر چھوڑ بیٹھے انہوں نے دیکھا کہ اس دین اس مذہب سے نہ تو اپنی مصلحت پوری ہوتی ہے نہ دوسروں کی اسلیے اصل دین کو ہی چھوڑ بیٹھے یہ دو دین اور دو راستے تھے ایک نے دیکھا کہ تکمیل دین کے لیے جس سلطنت اور حزر و جنگ اور مال و دولت کی ضرورت ہے اور جس کی ان کو احتیاج ہے ان کا دین اس ضرورت و احتیاج کو پورا نہیں کرتا اس لیے وہ اصل دین ہی سے نفرت کرنے لگے اور دین کو چھوڑ بیٹھے۔
دوسرا گروہ سلطنت مال و دولت حرب و جنگ کاسامان اپنے دین اپنے مذہب میں پاتا ہے لیکن اقامت دین ان کے مقصد سے خارج ہے اس لیے یہ بھی دین ومذہب کو چھوڑ بیٹھے۔
یہ دو گروہ مغضوب علیھم یہود اور ضالین نصاری ہیں یہود نے سلطنت و سیاست اور امارۃ سیاست کو چھوڑ دیا اور نصاری عیسائیوں نے دین کو چھوڑ دیا ۔
صراط مستقیم انہی لوگوں کی راہ ہے جن پر اللہ تعالی کاخاص انعام ہوا ہے ۔
فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰه عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ
اور یہ راہ ان لوگوں کی ہے جن پر اللہ کا خاص انعام ہوا ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام ، صدیقین ، شہداء و صالحین ہیں ۔
ہمارے پیارے پیغمبر محمد رسول اللہeکا یہی طریقہ رہا آپ کے بعد آپ کے خلفاء رضی اللہ عنہم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی طریقہ رہا خلفاء رضی اللہ عنہم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے بعد ان کی راہ پر چلنے والوں کا بھی یہی طریقہ رہا
وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰه عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ وَ اَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(توبہ:100)
اور مہاجرین و انصار میں سے جن لوگوں نے اسلام لانے میں سبقت کی سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور نیز وہ لوگ جو انکے بعد خلوص دل سے ایمان لائے خدا ان سے خوش اور وہ