کتاب: حکمران بیور و کریسی اور عوام - صفحہ 235
نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا(الزخڑف:32) سو اس زندگی میں تو ان کی روزی ان میں ہم تقسیم کرتے ہیں اور ہم نے درجوں کے اعتبار سے ان میں ایک کو ایک پر ترجیح دی ہے تاکہ ان میں ایک کو ایک اپنا محکوم بنائے رہے ۔ شریعت اسلام نے یہ لازم اور ضروری گردانا کہ سلطنت ، ریاست اور مال و دولت اللہ کی راہ میں خرچ ہو، سلطنت و ریاست کااصل مقصود یہی ہے تقرب الٰہی حاصل کیاجائے اللہ کا دین قائم اور مضبوط ہو اور جب اللہ کی راہ میں مال و دولت خرچ کی جائے گی ، تو لازمی طور پر دین و دنیا کی اصلاح ہوگی ، اور فلاح و بہبود نصیب ہوگی ، اگر امیر و سلطان دین سے علیحدہ رہے گا تو لوگوں کے حالات خراب ہوجائیں گے ۔ طاعت الٰہی اور اہل معصیت کا امتیاز نیت وارادہ اور عمل صالح سے ہوتا ہے ، جیسا کہ صحیحین کے اندر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا :۔ ان اللّٰه لا ینظر الی صورکم ولا الی اموالکم و انما ینظر الی قلوبکم و الی اعمالکم(بخاری و مسلم ) اللہ تعالی تمہاری صورتیں اور تمہارا مال نہیں دیکھا کرتا ، بلکہ وہ تمہارے قلوب اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے ۔ اکثر والیان ملک ولاۃ ، امراء ، روساء ایسے ہیں جن پر دنیا مسلط ہوچکی ہے ۔ مال و شرافت ، دولت و بزرگی سے دنیا ہی کے کام لیتے ہیں ۔ حقیقت ایمان ۔ اور کمال دین سے سراسر محروم ہیں بعض ان میں ایسے ہیں جن پر دین غالب ہے لیکن تکمیل جن امور سے ہوتی ہے ان سے سراسر ناواقف ہیں اور اس لیے وہ ان امور کو چھوڑے بیٹھے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو اس کی ضرورت سمجھتے ہیں ، لیکن پھر بھی دین سے اعراض کئے بیٹھے ہیں اور یہ اس لیے کہ سلطنت و ریاست ولایت و امارت کو وہ دین کے خلاف سمجھتے ہیں ان کا اعتقاد یہ ہے یہ دین کے منافی ہے دین ان کے نزدیک ذلت و خواری کانام ہے علو و سر بلندی عزت و بزرگی سے قطعاً محروم ہے ۔ اور یہی حال ان دو مذہبوں کاہوا یہود و نصاری نے دیکھا کہ ان کا دین مکمل نہیں ہے تکمیل دین سے