کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 67
واپس جانے کی اجازت دی۔ امام ابن خزیمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر درج ذیل عنوان لکھا ہے:
[بَابُ إِبَاحَۃِ الْعُمْرَۃِ فِيْ أَشْہُرِ الْحَجِّ لِمَنْ لَا یَحُجُّ عَامَہُ ذٰلِکَ ، وَالرُّخْصَۃِ لَہُ فِي الرَّجُوْعِ إِلیٰ وَطَنِہِ بَعْدَ قَضَائِ الْعُمْرَۃِ قَبْلَ أَنْ یَّحُجَّ] [1]
[حج نہ کرنے والے سال میں حج کے مہینوں میں عمرے کے جواز اور حج کیے بغیر عمرے کے بعد وطن واپس آنے کی اجازت کے متعلق باب]
ہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمان سے سال کے ہر مہینے میں عمرہ کرنے کی اجازت ثابت ہوتی ہے۔ علامہ مجد الدین ابن تیمیہ نے اسے درج ذیل عنوان کے تحت ذکر کیا ہے:
[بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَۃِ فِيْ جَمِیْعِ السَّنَۃِ] [2]
[سارے سال میں عمرے کے جواز کے متعلق باب]
سعودی دائمی مجلس برائے علمی تحقیقات و افتاء نے ایک فتویٰ تحریر کیا ہے:
’’یَجُوْزُ أَدَائُ الْعُمْرَۃِ فِي جَمِیْعِ أَیَّامِ السَّنَۃِ ، حَتّٰی فِيْ أَشہُرِ الْحَجِّ۔‘‘ [3]
’’سال کے سب دنوں میں عمرہ کرنا جائز ہے ، یہاں تک کہ حج کے مہینوں میں بھی۔‘‘
[1] صحیح ابن خزیمہ ، کتاب المناسک، جماع أبواب ذکر العمرۃ، ۴؍۳۶۲۔
[2] منتقی الأخبار ۵؍۳۰۔
[3] فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والإفتاء، جزء من الفتوی رقم ۴۵۱۷، ۱۱؍۳۱۶۔