کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 380
ٹھہرنے کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے اور پھر مزدلفہ میں مغرب و عشاء ادا کرکے نمازِ فجر پڑھنے کے بعد روشنی ہونے تک ٹھہرے، لیکن امت کے لیے وقوفِ عرفات اور مزدلفہ کے اوقات میں آسانی فرمائی، دس ذوالحجہ کے چاروں اعمال میں خود ترتیب برقرار رکھی، لیکن ترتیب میں تقدیم و تاخیر کی صورت میں [لَا حَرَج] [کوئی مضایقہ نہیں] فرما کر امت کے لیے سہولت بہم پہنچائی۔ اس قسم کے اعمال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے ہوئے عمل اور طریقے کو اپنانے کا اہتمام کیا جائے، کیونکہ یہی استحباب اور زیادہ اجر و ثواب والی صورت ہے، البتہ آسان عمل یا آسان طریقہ اختیار کرنے میں نہ گناہ ہے، نہ فدیہ، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایسے کرنے کی اجازت عطا فرمائی ہے۔ ہاں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ دینے کے متعلق فرمایا ہے، تو پھر فدیہ دینا ہے۔ ۴: آسانی کی آڑ میں دین میں تحریف سے دور رہنا: اللہ کریم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل دین نازل فرمایا۔ ارشاد ربانی ہے: {اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ}[1] [آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا] اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کامل دین میں احکام کے ساتھ آسانیاں بھی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آسانیوں سمیت پورا دین امت تک پہنچا دیا۔ اب کسی کو یہ حق نہیں، کہ وہ سہولت اور آسانی کی آڑ میں دین کی ثابت شدہ باتوں کو چھوڑنا شروع کردے۔ دین موم کی ناک نہیں، کہ جیسے کوئی چاہے، اسے موڑ کر اس کا حلیہ بگاڑ دے۔ دین میں تحریف یہود و نصاریٰ کی خصلت ہے، اہل اسلام کو یہ زیبا نہیں۔ ****
[1] سورۃ المآئدۃ / جزء من الآیۃ ۳۔