کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 378
آسانیوں سے منہ پھیرتے ہیں، انہوں نے خود تاکید کی ہوئی ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے خلاف ان کی کسی بات کو نہ لیا جائے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’إِذَا قُلْتُ قَوْلًا یُخَالِفُ کِتَابَ اللّٰہِ تَعَالَی وَخَبَرَ الرَّسُوْلِ صلي اللّٰه عليه وسلم فَاتْرُکُوْا قَوْلِيْ۔‘‘[1]
’’جب میں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے خلاف کوئی بات کہوں، تو تم اسے چھوڑ دو۔‘‘
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أُخْطِیئُ وَأُصِیْبُ فَانْظُرُوْا رَأْیِيْ، فَکُلُّ مَا وَافَقَ الْکِتَابَ وَالسُنَّۃَ فَخُذُوْہُ، وَکُلُّ مَالَمْ یُوَافِقِ الْکِتَابَ وَالسُّنَّۃَ فَاتْرُکُوْہُ۔‘‘[2]
’’بے شک میں بشر ہوں، میں غلطی کرتا ہوں اور ٹھیک بات (بھی) کہتا ہوں، پس (میری) جو (بات) کتاب و سنت کے مطابق ہو، اسے لے لو اور جو کتاب و سنت سے غیر موافق ہو، اسے چھوڑ دو‘‘
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’إِذَا کَانَ حَدِیْثُ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم خِلَافَ قَوْلِيْ فَاعْمَلُوْا بِالْحَدِیْثِ وَدَعُوْا قَوْلِيْ۔‘‘[3]
’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میرے قول کے خلاف ہو، تو تم حدیث
[1] الحاشیۃ للشیخ ابن عابدین ۱/۶۸۔
[2] جامع بیان العلم وفضلہ، باب معرفۃ أصول العلم وحقیقتہ، ص ۲۸۰؛ نیز ملاحظہ ہو: الاعتصام ۲/۳۴۶۔
[3] شرح النووي ۱۴/۵۵۔