کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 377
کُلِّہِمْ لَہَا۔‘‘[1]
’’اور جب سنت ثابت ہوجائے، تو بعض لوگوں یا اکثریت یا تمام لوگوں کے اسے ترک کرنے کی وجہ سے اسے چھوڑا نہ جائے گا۔‘‘
فاروق اعظم–– میرے ماں باپ ان پر قربان–– رضی اللہ عنہ کتنی بڑی شخصیت والے ہیں! سنت سے ہٹ کر ان کی رائے کے متعلق ان ہی کے قابلِ فخر پوتے سالم رحمہ اللہ نے کس قدر قیمتی بات کہی ہے! امام شافعی نے ان سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’جب تم رمی، ذبح اور حلق کرلو، تو تمہارے لیے خواتین اور خوشبو کے سوا دیگر تمام ممنوعہ چیزیں حلال ہوجاتی ہیں۔‘‘
سالم نے کہا: ’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا:
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے احرام کی خاطر احرام سے پہلے، اور حلال ہونے کے لیے رمی جمرہ کے بعد اور بیت (اللہ) کی زیارت سے پہلے خوشبو لگائی۔‘‘
سالم نے کہا:
’’وَسُنَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعُ۔‘‘[2]
’’اور رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کی سنت اتباع کے زیادہ لائق ہے۔‘‘
ائمہ کا خلافِ سنت ان کے اقوال کو لینے سے روکنا:
جن حضرات ائمہ کرام کے نام کی آڑ میں، بعض لوگ سنت نبوی سے ثابت شدہ
[1] شرح النووي / ۸/۵۶۔
[2] ملاحظہ ہو: ترتیب مسند الإمام الشافعي، کتاب الحج، الباب الرابع، فیما یلزم المحرم عند تلبسہ الإحرام، رقم الروایۃ ۷۷۹، ۱/۲۹۱۔