کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 375
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک دوسری روایت میں ہے:
’’تو ہم نے (آپس میں ایک دوسرے سے) کہا: ’’جب ہمارے اور (وقوفِ) عرفات میں صرف پانچ دن باقی ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ازدواجی تعلقات قائم کرنے کا حکم دیا ہے، تو ہم عرفات میں اس حالت میں جائیں گے، کہ ہماری شرم گاہوں سے منی ٹپک رہی ہوگی۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاکُمْ لِلّٰہِ وَأَصْدَقُکُمْ وَأَبَرُّکُمْ، وَلَوْلَا ہَدْیِيْ لَحَلَلْتُ کَمَا تَحِلُّوْنَ۔ وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِيْ مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْہَدْيَ۔‘‘[1]
’’یقینا تم جانتے ہو، کہ بلاشک و شبہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا، تم سب سے زیادہ سچا اور تم سب سے زیادہ نیکوکار ہوں۔ اگر میرے ہمراہ قربانی نہ ہوتی، تو میں (بھی) تمہاری طرح حلال ہوجاتا اور اگر مجھے اس بات کا علم پہلے ہوتا، جس کا بعد میں ہوا، تو میں قربانی لے کر نہ آتا۔‘‘
(حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:)
’’فَحَلَلْنَا، وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا۔‘‘[2]
’’سو ہم حلال ہوگئے، ہم نے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم) سنا اور (اس کی) تعمیل کی۔‘‘
[1] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوہ الإحرام…، جزء من رقم الحدیث ۱۴۱۔ (۱۲۱۶)، ۲/۸۸۳۔۸۸۴۔
[2] المرجع السابق، جزء من رقم الحدیث ۱۴۱۔ (۱۲۱۶)، ۲/۸۸۳۔۸۸۴۔