کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 374
’’مکمل حلال ہونا۔‘‘
اسی بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے روایت میں ہے:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو آپ ناراض تھے۔‘‘
تو میں نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کس نے خفا کیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے (دوزخ کی) آگ میں داخل کریں۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’أَوَ مَا شَعَرْتِ أَنِّيْ أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا ہُمْ یَتَرَدَّدُوْنَ؟‘‘[1]
’’کیا تم نے دیکھا نہیں ہے، کہ میں نے لوگوں کو ایک بات کا حکم دیا ہے اور وہ اس میں تردّد کر رہے ہیں؟‘‘
اسی واقعہ کے متعلق حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت میں ہے:
انہوں (حضراتِ صحابہ) نے عرض کیا:
’’کَیْفَ نَجْعَلُہَا مُتْعَۃً، وَقَدْ سَمَّیْنَا الْحَجَّ؟‘‘
’’ہم اسے تمتع[2] میں کیسے تبدیل کریں اور ہم نے تو (تلبیہ پکارتے ہوئے صرف) حج کا نام لیا تھا۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اِفْعَلُوْا مَا أَمَرْتُکُمْ۔‘‘[3]
’’میں نے تمہیں جو حکم دیا ہے، اس کی تعمیل کرو۔‘‘
[1] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوہ الإحرام…، جزء من رقم الحدیث ۱۳۰۔ (۱۲۱۱)، ۲/۸۷۹۔
[2] یعنی حج تمتع میں، کہ پہلے عمرہ کرکے احرام کھول دیں، پھر حج کا احرام باندھیں۔
[3] صحیح البخاري، کتاب الحج، باب التمتّع والقران…، جزء من رقم الحدیث ۱۵۶۸، ۳/۴۲۲۔