کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 372
فِيْ ہٰذَا الْفِعْلِ، إِذْ اسْمُ النِّفَاسِ یَقَعُ عَلَی الْحَیْضِ، وَالْعِلَّۃُ فِیْہِمَا وَاحِدَۃٌ] [1] [اس (یعنی طواف وداع) میں زچہ کا حکم حائضہ کے حکم جیسا ہونے پر دلالت کرنے والی حدیث کا ذکر، کیونکہ [حیض] کو [نفاس] بھی کہتے ہیں اور (دونوں میں) سبب ایک ہی ہے] ب: اسی بارے میں علامہ ابن قدامہ رقم طراز ہیں: ’’وَالْحُکْمُ فِيْ النُفَسَائِ کَالْحُکْمِ فِيْ الْحَائِضِ، لِأَنَّ أَحْکَامَ النِّفَاسِ أَحْکَامُ الْحَیْضِ فِیْمَا یُوْجِبُ وَیُسْقِطُ۔‘‘[2] ’’زچہ کا حکم حائضہ کی طرح ہے، کیونکہ نفاس کی بنا پر واجب اور ساقط ہونے والی باتیں وہی ہیں، جو حیض کی وجہ سے ہوتی ہیں۔‘ گفتگو کا ماحاصل یہ ہے، کہ خواتین کے لیے حج کی آسانیوں میں سے ایک یہ ہے، کہ زچہ طوافِ وداع کے بغیر مکہ مکرمہ سے روانہ ہوسکتی ہے، البتہ یہ ضروری ہے، کہ وہ اس سے پیشتر طواف افاضہ کرچکی ہو۔ ****
[1] المرجع السابق ۹/۲۱۲۔ [2] المغني ۵/۳۴۱؛ نیز ملاحظہ ہو: مناسک الحج والعمرۃ للإمام النووي ص۴۰۵۔۴۰۶۔