کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 370
امام طحاوی نے حضرت عائشہ[1] اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم [2] کی حدیثوں کی وجہ سے اسے منسوخ قرار دیا ہے۔[3] امام خطابی تحریر کرتے ہیں، کہ اگر روانگی میں تاخیر ہو، تو حائضہ اس حدیث کے مطابق عمل کرے اور اگر روانگی جلدی ہو، تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا والی حدیث کی بنا پر طوافِ وداع کئے بغیر روانہ ہوجائے۔[4] ہ: حضرات صحابہ میں سے عمر، ابن عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم حائضہ کو طوافِ وداع کے لیے رکنے کا حکم دیتے تھے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ بات گزر چکی ہے، کہ انہوں نے اُمّ سلیم رضی اللہ عنہا کی حدیث معلوم ہونے پر اپنی سابقہ رائے سے رجوع کرلیا۔[5] حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما دو سال تک یہی فتویٰ دیتے رہے، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سننے پر اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔[6] حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شاید مذکورہ بالا احادیث نہ پہنچی تھیں۔ امام ابن منذر لکھتے ہیں: ’’اس (یعنی حائضہ پر طوافِ وداع کے وجوب کے قول) سے ابن عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کا رجوع ثابت ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے، تو ہم نے حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے ثبوت کی بنا پر ان سے اختلاف کیا۔‘‘[7]
[1] اس کتاب کے ص نمبر۳۶۵میں مذکور حدیث ا۔ [2] اس کتاب کے ص ۳۶۷میں مذکور حدیث ج۔ [3] ملاحظہ ہو: عمدۃ القاري ۱۰/۹۶؛ وفتح الباري ۳/۵۸۷۔ نیز ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۱/۳۷۷؛ ومناسک الحج والعمرۃ للشیخ الألباني ص ۴۰۔۴۱۔ [4] ملاحظہ ہو: معالم السنن ۲/۲۱۶۔ [5] اس کتاب کا ص۳۶۶ملاحظہ ہو۔ [6] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: فتح الباري ۳/۵۸۹۔ [7] ملاحظہ ہو: فتح الباري ۳/۵۸۷؛ وعمدۃ القاري ۱۰/۹۶۔