کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 369
لَمْ یَکُنْ آخِرُ عَہْدِہَا بِالْبَیْتِ، إِذَا کَانَتْ طَافَتْ قَبْلَ ذٰلِکَ طَوَافَ الزِّیَارَۃَ] [1] [اس بات کا بیان، کہ حائضہ کو طوافِ وداع کے بغیر جانے کی اجازت تب ہے، جب کہ وہ اس سے پیشتر طوافِ افاضہ کرچکی ہو] ج: طوافِ وداع کے بغیر جانے والی حائضہ پر کوئی دم واجب نہ ہوگا۔ امام ترمذی لکھتے ہیں، کہ طواف افاضہ کرنے کے بعد ماہواری کے شروع ہونے والی خاتون طوافِ وداع کے بغیر چلی جائے گی اور اس کے ذمے کچھ بھی نہ ہوگا۔ ثوری، شافعی، احمد اور اسحق کا یہی قول ہے۔[2] علامہ خرقی تحریر کرتے ہیں: ’’اگر خاتون کی ماہواری طوافِ وداع سے پیشتر شروع ہوجائے، تو وہ کوچ کرجائے۔ اس کے ذمے نہ طوافِ وداع ہے اور نہ ہی کوئی فدیہ۔‘‘ علامہ ابن قدامہ نے قلم بند کیا ہے، کہ سب علاقوں کے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔[3] د: امام ابوداؤد نے حضرت حارث بن عبد اللہ بن اوس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طوافِ افاضہ سے فارغ ہوکر ماہواری شروع ہونے والی خاتون کے متعلق فتویٰ دیا، کہ وہ طوافِ وداع کرکے جائے۔[4]
[1] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ، کتاب الحج، باب الإفاضۃ من منی لطواف الصدر ۹؍۲۱۴۔ [2] ملاحظہ ہو: جامع الترمذي، أبواب الحج، باب ما جاء في المرأۃ تحیض بعد الإفاضۃ، ۴/۱۲۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ (ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذي ۴/۱۲)۔ [3] ملاحظہ ہو: المغني ۵/۳۴۱۔ نیز ملاحظہ ہو: شرح النووي ۹/۷۹۔ [4] ملاحظہ ہو: سنن أبي داود، کتاب المناسک، باب الحائض تخرج بعد المناسک، رقم الحدیث ۲۰۰۱، ۵/۳۳۹۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۲۱/۳۷۷)۔