کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 368
عَنِ الْحَائِضِ۔‘‘[1] ’’لوگوں کو حکم دیا گیا، [2]کہ ان کا آخری وقت بیت (اللہ) کے ساتھ ہو (یعنی وہ طواف الوداع کریں) البتہ حائضہ خاتون سے رعایت کی گئی۔‘‘ ان احادیث کے حوالے سے پانچ باتیں: ا: حائضہ کو یہ رعایت دی گئی ہے، کہ وہ طوافِ وداع کیے بغیر واپس اپنے وطن چلی جائے۔ امام نووی نے مذکورہ بالا احادیث حسبِ ذیل عنوان کے تحت ذکر کی ہیں: [بَابُ وُجُوْبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوْطِہِ عَنِ الْحَائِضِ] [3] [طوافِ وداع کے وجوب اور حائضہ سے اس کے سقوط کے متعلق باب] ب: پہلی اور دوسری حدیث میں یہ بات واضح ہے، کہ حائضہ کے لیے طوافِ وداع کے بغیر جانے کی اجازت تب ہے، جب کہ اس نے پہلے سے طوافِ افاضہ کرلیا ہو۔ امام ابن حبان کے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق واقعہ پر تحریر کردہ دو عنوانات درج ذیل ہیں: ا: [ذِکْرُ الْأَمْرِ لِلْمَرْأَۃِ إِذَا حَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَۃِ أَنْ تَنْفِرَ] [4] [طوافِ افاضہ کے بعد ماہواری شروع ہونے والی خاتون کے لیے کوچ کرنے کے حکم کا ذکر] ۲: [ذِکْرُ الْبَیَانِ بِأَنَّ الْحَائِضَ إِنَّمَا رُخِّصَ لَہَا أَنْ تَنْفِرَ، وَإِنْ
[1] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الحج، باب طواف الوداع، رقم الحدیث ۱۷۵۵، ۳/۵۸۵؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، رقم الحدیث ۳۷۹۔ (۱۳۲۷)، ۲/۹۶۳۔ [2] مراد یہ ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري ۳/۵۸۵)۔ [3] صحیح مسلم ۲/۹۶۳۔ [4] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الحج، باب الإفاضۃ من منی لطواف الصدر ۹/۲۱۳۔