کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 367
کیجئے: ’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا؟‘‘
انہوں نے بیان کیا: ’’پھر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہنستے ہوئے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس لوٹے اور کہنے لگے:
’’مَا أَرَاکَ إِلَّا صَدَقَتَ۔‘‘ [1]
’’میں نے آپ کو درست بات کہتے ہوئے ہی پایا ہے۔‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے، کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:
’’سَلُوْا صَاحِبَتَکُمْ أُمَّ سُلَیْمٍ رضی اللّٰه عنہا ۔‘‘
’’اپنی خاتون اُمّ سلیم رضی اللہ عنہا سے دریافت کرلیجئے۔‘‘
تو انہوں نے (دریافت کرنے پر) فرمایا:
’’حِضْتُ بَعْدَ مَا طُفْتُ بِالْبَیْتِ، فَأَمَرَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم أَنْ أَنْفِرَ۔‘‘[2]
’’میں بیت (اللہ) کے طواف کے بعد[3] حائضہ ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوچ کرنے کا [4] حکم دیا۔‘‘
ج: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:
’’أُمِرَ النَّاسُ أَنْ یَکُوْنَ آخِرُ عَہْدِہِمْ بِالْبَیْتِ إِلَّا أَنَّہُ خُفِّفَ
[1] صحیح مسلم، کتاب الحج، باب وجوب طواف الوداع…، رقم الحدیث ۳۸۱۔ (۱۳۲۸)، ۲/۹۶۳۔۹۶۴۔ نیز ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب الحج، باب إذا حاضت المرأۃ بعد ما أفاضت، رقم الحدیث ۱۷۵۸و ۱۷۵۹، ۳/۵۸۶۔
[2] مسند أبي داؤد الطیالسي، جزء من رقم الحدیث ۱۷۵۶، ۳/۲۲۴۔ ڈاکٹر محمد الترکی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش مسند الطیالسي ۳/۲۲۴)۔
[3] یعنی طواف افاضہ کے بعد۔
[4] یعنی طواف وداع کے بغیر ہی۔