کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 366
حَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَۃِ۔‘‘ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہوئی ہیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فَلْتَنْفِرْ۔‘‘ [1] ’’تو پس وہ کوچ کریں۔‘‘ صحیح البخاری میں ہے: ’’فَلَا إِذًا۔‘‘[2] ’’پھر کوئی فکر نہیں۔‘‘ ب: امام مسلم نے طاؤوس سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’تُفْتِيْ أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ یَکُوْنَ آخِرُ عَہْدِہَا بِالْبَیْتِ۔‘‘ ’’آپ حائضہ عورت کے طوافِ وداع کیے بغیر روانہ ہونے کا فتویٰ دے رہے ہیں؟‘‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: ’’إِمَّا لَا ، فَسَلْ فُلَانَۃَ الْأَنْصَارِیَّۃَ: ہَلْ أَمَرَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم بِذٰلِکَ۔‘‘ ’’اگر (آپ) نہیں (مانتے)، تو فلانی انصاری خاتون سے دریافت
[1] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الحج، باب طواف الوداع، رقم الحدیث ۱۷۵۷، ۳/۵۸۶؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، باب وجوب طواف الوداع، رقم الحدیث ۳۸۲۔ (۱۲۱۱)، ۲/۹۶۴۔ الفاظِ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔ [2] صحیح البخاري ۳/۵۸۶۔