کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 365
۸: حائضہ سے طوافِ وداع کا سقوط: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں خود طواف وداع کیا[1] اور اپنے ہمراہ حج کرنے والوں کو طوافِ وداع کیے بغیر واپس جانے سے منع فرمایا[2]، لیکن روانگی کے موقع پر ماہواری والی عورت کو اس کے بغیر ہی جانے کی رعایت دے دی۔ توفیقِ الٰہی سے اس کے متعلق ذیل میں تین احادیث پیش کی جارہی ہیں: ا: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’‘’صفیہ بنت حي رضی اللہ عنہا کو (طواف) افاضہ کے بعد ماہواری آئی۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ’’میں نے ان کے حیض کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’أَحَابِسَتُنَا ہِيَ؟‘‘ ’’کیا وہ ہمیں (سفر سے) روکیں گی؟‘‘ انہوں نے بیان کیا: ’’میں نے عرض کیا: ’’یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہَا قَدْ أَفَاضَتْ، وَطَافَتْ بِالْبَیْتِ، ثُمَّ
[1] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب الحج، باب طواف الوداع، رقم الحدیث ۱۷۵۶، ۳/۵۸۵؛ نیز ملاحظہ ہو: فتح الباري ۳/۵۹۰۔۵۹۱۔ [2] حضرتِ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لوگ ادھر ادھر ہی سے لوٹ جاتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لا یَنْفِرَنَّ أَحَدُکُمْ حَتَّی یَکُوْنَ آخِرُ عَہْدہِ بِالْبَیْتِ‘‘۔ ’’کوئی شخص کوچ نہ کرے، یہاں تک کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ کے ساتھ نہ ہو۔‘‘ (یعنی طوافِ وداع کیے بغیر نہ جائے)۔ (صحیح مسلم، کتاب الحج، باب وجوب طواف الوداع…، رقم الحدیث ۳۷۹۔ (۱۳۲۷)، ۲/۹۶۳)۔