کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 364
چھٹا اعتراض: حالتِ حیض میں طواف کرنا اگر درست ہوتا، تو حائضہ کو طوافِ قدوم اور طوافِ وداع کا حکم دیا جاتا۔ ان دونوں کا حالتِ حیض میں سقوط اس حالت میں طواف کے ممکن نہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ جواب: حالتِ حیض میں طواف کرنا یقینا ممنوع ہے اور ممنوعہ کاموں کی اجازت صرف بوقت ضرورت ہوتی ہے۔ طوافِ قدوم اور طوافِ وداع دونوں حج کے رکن نہیں۔ ان کے بغیر حج ہوسکتا ہے، لہٰذا ان دونوں کے لیے حالتِ حیض میں طواف کی اجازت دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ طوافِ افاضہ حج کا رکن ہے۔ اس کے بغیر حج نہیں ہوتا۔ پیش آمدہ صورت میں خاتون کے لیے حالتِ طہارت میں یہ طواف کرنا ممکن نہیں، اس لیے بوجہ ضرورت حالتِ حیض میں طواف کی اجازت دی گئی۔[1] سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ ابن باز لکھتے ہیں، کہ اگر مخصوص ایام والی خاتون نے طوافِ افاضہ نہ کیا ہو اور مکہ مکرمہ میں اس کا ٹھہرنا بھی ممکن نہ ہو، تو وہ چلی جائے، لیکن پاک ہونے کے بعد مکہ مکرمہ واپس آکر طوافِ افاضہ کرے۔ اس طواف کے کرنے تک اسے ازدواجی تعلقات کی اجازت نہ ہوگی۔ اگر اس کے لیے مکہ مکرمہ واپس آنا ممکن نہ ہو یا اسے خدشہ ہو، کہ وہ واپس نہ آسکے گی، تو ایسی حالت میں صحیح بات یہ ہے کہ، وہ اچھی طرح نیچے کپڑا باندھ کر طواف کرلے۔ اہل علم کے ایک گروہ نے اس بات کی اجازت دی ہے اور ان میں سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد ابن قیم رحمہ اللہ ہیں۔
[1] ملاحظہ ہو: إعلام الموقعین ۳/۲۵۔۴۱۔ نیز ملاحظہ ہو: مجموع فتاوی شیخ الإسلام ابن تیمیہ ۲۶/۱۷۶۔۲۱۸۔