کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 363
چوتھا اعتراض: طواف نماز کی مانند ہے، لہٰذا اس کے لیے نماز کی طرح طہارت شرط ہونی چاہیے۔
جواب: طواف کے لیے طہارت شرط ہونے کے متعلق نہ کوئی نص ہے اور نہ ہی اجماع۔ متقدمین اور متاخرین میں اس بارے میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب اسے شرط نہیں سمجھتے۔ امام احمد سے بھی ایک روایت ایسے ہی ہے۔
علاوہ ازیں طواف اور نماز میں اختلاف کی وجوہ اتفاق والی باتوں سے زیادہ ہیں۔ نماز کے برعکس طواف میں گفتگو، کھانے پینے اور عمل کثیر کی اجازت ہے۔ اس میں تحریم و تحلیل[1]، رکوع و سجود، قرأت و تشہد اور وجوب جماعت نہیں۔
دونوں میں وجہ اتحاد یہ ہے، کہ دونوں طاعت اور قربت[2] ہیں اور ان دونوں کا تعلق بیت اللہ سے ہے، لیکن اس اتفاق کی وجہ سے دونوں کا حکم ایک جیسا نہیں۔
پانچواں اعتراض: حالتِ حیض میں طوافِ افاضہ کرنے والی خاتون طواف کی دو رکعتیں کیسے ادا کرے گی؟
جواب: طواف کی دو رکعتوں کے وجوب کے متعلق نزاع ہے۔ اگر انہیں واجب بھی سمجھا جائے، تو ان کا طواف کے فوراً بعد پڑھنا ضروری نہیں۔ ایسی خاتون طہارت کے بعد انہیں ادا کرے گی۔[3]
[1] (تحریم) سے مراد (اللہ اکبر) کہہ کر نماز کی مقرر کردہ پابندیوں کے خود پر لازم کرنے کا آغاز کرنا ہے اور (تحلیل) سے مراد نماز کے اختتام پر (السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ) کہہ کر ان پابندیوں سے آزاد ہونا ہے۔
[2] یعنی ان دونوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔
[3] طواف کی دو رکعتوں کے ادا کرنے کے لیے جگہ کی بھی پابندی نہیں۔ مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے ادا کرنا مستحب ہے، لیکن حرم شریف کے اندر اور باہر دیگر جگہوں پر ادا کرنا بھی درست ہے۔ (ملاحظہ ہو: اس کتاب کا ص ۱۹۷)۔