کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 362
۲: حیض کے خون سے مسجد میں گندگی کا خدشہ استحاضہ [1] کے خون کی وجہ سے نجاست کے اندیشے کی مانند ہے۔ جس طرح استحاضہ والی خاتون لنگوٹ کس کر اس اندیشے کو ختم کرتی ہے، اسی طرح حیض والی خاتون کرے گی۔ ۳: حائضہ کو جنبی کی طرح مسجد میں داخلے سے روکا گیا ہے۔ بوقتِ ضرورت جیسے جنبی کو مسجد میں داخلہ کی اجازت ہے، اسی طرح حائضہ کو بھی ہوگی۔ دوسرا اعتراض: ایسی خاتون حالتِ حیض میں طواف کرے گی اور طواف تو نمازکی مانند ہے۔ جواب: بلاشک و شبہ طواف میں طہارت اور سترپوشی واجب ہیں۔ نماز میں ان دونوں کا وجوب اور زیادہ ہے اور نمازمیں ان دونوں میں سے کسی ایک کی عدم موجودگی میں نماز باطل ہے۔ لیکن جب بوقتِ ضرورت برہنہ حالت میں نماز اور طواف دونوں درست ہیں، تو حیض کی حالت میں بوقتِ ضرورت طواف کرنا بطریق اولیٰ صحیح ہوگا۔ تیسرا اعتراض: اگر حالتِ حیض میں طوافِ افاضہ درست ہے، تو اسی حالت میں نماز اور روزے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔ جواب: نماز اور روزے کا معاملہ پیش آمدہ صورت میں طوافِ افاضہ سے جدا ہے۔ حالت حیض میں جب نماز سرے سے فرض ہی نہیں ہوتی، تو اسے ادا کرنے کی اجازت کیونکر دی جائے گی؟ ایامِ ماہواری میں چھوڑے ہوئے روزے دوسرے دنوں میں رکھنے کا متبادل بندوبست موجود ہے، لیکن پیش آمدہ صورت میں تو خاتون کے لیے دوسرے دنوں میں طواف کرنا ممکن ہی نہیں۔
[1] حیض کے علاوہ بیماری کی بنا پر خاتون کا خون جاری رہنا۔