کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 361
تبصرہ: دونوں کا عذر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ بیمار اور لاغر شخص تو شفایابی سے مایوسی کی صورت میں نائب مقرر کرتا ہے، لیکن حائضہ کا عذر تو ختم ہونے والا ہے۔ علاوہ ازیں اس قول کے کہنے والا کوئی نہیں۔
۸: ایسی خاتون حج کے جن اعمال کی استطاعت رکھے، انہیں سر انجام دے اور جن شرائط اور واجبات کی اسے استطاعت نہ ہو، وہ اس سے ساقط ہوجائیں گے۔
اس صورت کے مطابق ایسی خاتون حرم شریف میں آکر طوافِ افاضہ کرے اور اپنے وطن کی جانب سفر کے لیے روانہ ہوجائے۔
تبصرہ: اس میں زیادہ سے زیادہ یہ ہے، کہ عدمِ استطاعت کی وجہ سے واجب یا شرط کو ترک کیا گیا ہے، لیکن استطاعت نہ ہونے کی صورت میں (عام حالات میں واجب) شریعت میں واجب نہیں رہتا اور ضرورت کے وقت حرمت کا حکم باقی نہیں رہتا۔
آٹھویں صورت پر اعتراضات اور ان کے جوابات:
امام ابن قیم نے آٹھویں شکل کے متعلق متعدد اعتراضات ذکر کرکے ان کے خود ہی جوابات تحریر کیے ہیں۔ ذیل میں ان کی اس حوالے سے گفتگو کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے:
پہلا اعتراض: ایسی صورت میں حائضہ مسجد میں داخل ہوگی، حالانکہ اس کا مسجد میں داخلہ جائز نہیں۔
جوابات:
۱: ضرورت کے وقت اسے مسجد میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ پیش آمدہ شکل میں وہ ضرورت کی بنا پر ہی تو مسجد میں داخل ہورہی ہے۔