کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 344
ب: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’ہم حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئیں، تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا۔ میں مکہ آئی، تو حائضہ ہونے کی بنا پر نہ بیت (اللہ) کا طواف کیا اور نہ صفا و مروہ کی سعی کی۔ میں نے اس (صورتِ حال) کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انْقُضِيْ رَأْسَکِ، وَامْتَشِطِيْ، وَأَہِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِيْ الْعُمْرَۃَ۔‘‘[1] ’’اپنا سر کھول دو، کنگھی کرو اور عمرے کا احرام چھوڑ کر حج کا احرام باندھ لو۔‘‘ ج: حضرات ائمہ احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اَلْحَائِضُ وَالنُفَسَائُ إِذَا أَتَتَا عَلَی الْوَقْتِ تَغْتَسِلَانِ، وَتُحْرِمَانِ، وَتَقْضِیَانِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا غَیْرَ الطَّوَافِ بِالْبَیْتِ۔‘‘[2]
[1] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الحج، باب کیف تہل الحائض والننفساء، جزء من رقم الحدیث ۱۵۵۶، ۳/۴۱۵؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوہ الإحرام…، جزء من رقم الحدیث ۱۱۵، (۱۲۱۱)، ۲/۸۷۲۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔ [2] المسند، رقم الحدیث ۳۴۳۵، ۵/۴۰۲؛ وسنن أبي داود، کتاب المناسک، رقم الحدیث ۱۷۴۱، ۵/۱۱۵؛ وجامع الترمذي، أبواب الحج، باب ما جاء ما تقضي الحائض من المناسک، رقم الحدیث ۹۵۲، ۴/۱۴۔ الفاظِ حدیث سنن أبي داود کے ہیں۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] اور شیخ شعیب ارناؤط اور ان کے رفقاء نے [حسن لغیرہ] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۱/۳۲۸؛ وہامش المسند ۵/۴۰۲)۔