کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 334
امْرَأَتِيْ حَاجَّۃً۔‘‘ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے اور میری بیوی حج کی غرض سے نکلی ہے۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اِذْہَبْ، فَاحْجُجْ مَعَ امْرَأَتِکَ۔‘‘[1] ’’جاؤ اور اپنی بیوی کے ہمراہ حج کرو۔‘‘ ب: امام دارقطنی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لَا تَحُجَّنَّ اِمْرَأَۃٌ إِلَّا وَمَعَہَا ذُوْ مَحْرَمٍ ۔‘‘ [2] ’’کوئی عورت بھی محرم کے بغیر ہرگز حج نہ کرے۔‘‘ ج: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لَا یَحِلُّ لِأَمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِیْرَۃَ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، لَیْسَ مَعَہَا حُرْمَۃٌ۔‘‘[3] ’’اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی خاتون کے لیے
[1] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الجہاد، باب من اکتتب في جیش، فخرجت امرأتہ حاجۃ…، رقم الحدیث ۳۰۰۶، ۶/۱۴۲۔۱۴۳؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، رقم الحدیث ۴۲۴۔ (۱۳۴۱)، ۲/۹۷۸۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔ [2] سنن الدارقطني ، کتاب الحج، جزء من رقم الحدیث ۳، ۲/۲۲۲۔۲۲۳۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’اسے دار قطنی نے روایت کیا ہے اور ابوعوانہ نے [صحیح] قرار دیا ہے۔‘‘ (فتح الباري ۴/۷۶)۔ [3] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب تقصیر الصلاۃ، باب في کم یقصر الصلاۃ؟ رقم الحدیث ۱۰۸۸، ۲/۵۶۶؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ إلی حج وغیرہ، رقم الحدیث ۴۲۱۔ (۱۳۳۹)، ۲/۹۷۷۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔