کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 326
قربانیاں ذبح کیں، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لیے یہ آسانی فرمائی ہے، کہ وہ اسی دن اور اس کے بعد منیٰ کے تینوں دنوں میں قربانی کرسکتے ہیں۔ توفیقِ الٰہی سے ذیل میں اس بارے میں قدرے تفصیل سے گفتگو کی جارہی ہے:
دو دلیلیں:
ا: حضرات ائمہ احمد، ابن حبان اور بیہقی نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’وَفِيْ کُلِّ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ذِبْحٌ۔‘‘[1]
’’اور سارے ایام تشریق [2] میں قربانی (کرنا جائز) ہے۔‘‘
ب: امام ابن قیم لکھتے ہیں:
’’وَلِأَنَّ الثَّلَاثَۃَ تَخْتَصُّ بِکَوْنِہَا أَیَّامَ مِنَی، وَأَیَّامَ الرَّمْیِ، وَأَیَّامَ التَّشْرِیْقِ، وَیُحْرَمُ صِیَامُہَا، فَہِيَ إِخْوَۃٌ فِيْ ہٰذِہِ الْأَحْکَامِ، فَکَیْفَ تَفْتَرِقُ فِيْ جَوَازِ الذَّبْحِ بِغَیْرِ نَصٍّ وَ لَا
[1] المسند، جزء من رقم الحدیث ۱۶۷۵۱، ۲۷/۳۱۶؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الحج، باب الوقوف بعرفۃ والمزدلفۃ والدفع منہما، ذکر وقوف الحاج بعرفات والمزدلفۃ، جزء من رقم الحدیث ۳۸۵۴، ۹/۱۶۶؛ والسنن الکبری للبیہقي، کتاب الضحایا، باب من قال الأضحی جائز یوم النحر وأیام منی کلہا لأنہا أیام النسک، جزء من رقم الحدیث ۱۹۲۳۹، ۹/۴۹۷۔ الفاظِ حدیث صحیح ابن حبان کے ہیں۔ امام ابن قیم اور علامہ شوکانی نے متعدد طرق کی بنا پر اسے (قوی) قرار دیا ہے، شیخ البانی کی رائے میں شواہد کی بنا پر یہ (حسن) سے کم مرتبہ کی نہیں اور شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء کے نزدیک المسند کی روایت سند کے ضعف کے باوجود شواہد اور متعدد طرق کی بنا پر (صحیح لغیرہ) ہے۔ (ملاحظہ ہو: زاد المعاد ۲/۳۱۹؛ ونیل الأوطار ۵/۲۱۶؛ وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، رقم الحدیث ۲۴۷۶، ۵/۶۱۷۔۶۲۲؛ ومناسک الحج والعمرۃ للشیخ البانی ص ۳۴؛ وہامش المسند ۲۷/۳۱۶)۔
[2] ایام التشریق سے مراد گیارہ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ ہیں۔