کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 324
’’وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ طَرِیْقٌ وَمَنْحَرٌ۔‘‘[1] ’’اور مکہ کے سب راستے (اس میں داخلہ کے لیے) راہ اور جائے قربانی ہیں۔‘‘ ان حدیثوں کے حوالے سے تین باتیں: ا: پہلی حدیث کی شرح میں ملا علی قاری تحریر کرتے ہیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود یہ تھا ، کہ قربانی صرف اسی جگہ کرنا ضروری نہیں، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی[2]، بلکہ منیٰ میں جس جگہ کی جائے گی، درست اور معتبر ہوگی۔[3] تیسری حدیث کی شرح میں علامہ طیبی رقم طراز ہیں، کہ مکہ کے ہر راستے سے آنا جائز ہے اور مکہ کے گردو پیش میں کسی بھی جگہ قربانی کرنا جائز ہے، کیونکہ وہ سرزمینِ حرم میں سے ہے۔[4] ب: امام ابن خزیمہ نے دوسری حدیث پر حسب ِذیل عنوان تحریر کیا ہے: [بَابُ الرُّخْصَۃِ فِيْ النَّحْرِ وَالذِبْحِ أَیْنَ شَائَ الْمَرْئُ مِنْ مِنَی] [5]
[1] صحیح ابن خزیمۃ، کتاب المناسک، رقم الحدیث ۲۷۸۷، ۴/۲۴۲۔ اس کی سند صحیح ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش صحیح ابن خزیمۃ ۴/۲۴۲۔ دوسری اور تیسری حدیث کو حضرات ائمہ احمد، ابوداود اور ابن ماجہ نے ایک ہی حدیث کے ضمن میں روایت کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المسند، جزء من رقم الحدیث ۱۴۴۹۸، ۲۲/۳۸۱؛ وسنن أبي داود، کتاب المناسک، باب الصلاۃ بجمع، جزء من رقم الحدیث ۱۹۳۵، ۵/۲۸۸؛ وسنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، باب الذبح، جزء من رقم الحدیث ۳۰۴۸، ۹/۹۰۔ (المطبوع مع إنجاز الحاجۃ)۔ شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے المسند کی [سند کو حسن] اور شیخ البانی نے سنن ابی داود اور سنن ابن ماجہ کی روایت کو [حسن صحیح] قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۲۲/۳۸۱؛ وصحیح سنن أبي داود ۱/۳۶۵؛ وصحیح سنن ابن ماجہ ۲/۱۸۰)۔ [2] ملاحظہ ہو: مرقاۃ المفاتیح ۵/۴۸۶۔ [3] عون المعبود ۵/۲۸۸۔ [4] ملاحظہ ہو: شرح الطیبی ۶/۱۹۸۹۔ [5] صحیح ابن خزیمۃ ۳/۲۸۳۔