کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 319
کرنے کے لیے) دے دیے۔] ب: حضرات ائمہ ابوداود، نسائی، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، ’’ذَبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم عَمَّنِ اعْتَمَرَ مَعَہُ مِنْ نِسَائِہٖ فِی حِجَّۃِ الْوِداَعِ بَقَرَۃً بَیْنَہُنَّ۔‘‘[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے ہمراہ (حج کے ساتھ) عمرہ کرنے والی اپنی ازواج کی جانب سے ایک گائے ذبح کی۔‘‘ ان حدیثوں کے متعلق دو باتیں: ا: پہلی حدیث کی شرح میں امام نووی رقم طراز ہیں: ’’وَفِیْہِ اسْتِحْبَابُ ذِبْحِ الْمُہْدِي ہَدْیَہُ بِنَفْسِہِ وَجَوَازُ الْاِسْتِنَابَۃِ فِیْہِ، وَذٰلِکَ جَائِزٌ بِالْإِجْمَاعِ۔‘‘ ’’اس میں قربانی دینے والے کے لیے خود قربانی کرنے کا استحباب اور کسی دوسرے کو (ذبح میں) نائب بنانے کا جواز ہے اور اس کے جائز ہونے پر اجماع ہے۔‘‘ امام ابن خزیمہ نے اس پر حسب ذیل عنوان لکھا ہے: [بَابُ اسْتِحْبَابِ ذِبْحِ الْإِنْسَانِ وَنَحْرِ نَسِیْکِہٖ بِیَدِہٖ مَعَ إِبَاحَۃِ
[1] سنن أبي داود، کتاب المناسک، باب في ہدي البقر، رقم الحدیث ۱۷۴۸، ۵/۱۱۹؛ والسنن الکبری للنسائي، کتاب المناسک، النحر عن النساء، رقم الحدیث ۴۱۱۴، ۴/۲۰۵؛ و سنن ابن ماجہ، کتاب الأضاحي، باب عن کم تجزیء البدنۃ والبقرۃ، رقم الحدیث ۳۱۳۵، ۹/۳۵۱؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب المناسک ۱/۴۶۷۔ الفاظِ حدیث السنن الکبری کے ہیں۔ امام حاکم اور شیخ البانی نے اسے [صحیح] کہا ہے اور حافظ ذہبی نے امام حاکم سے موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱/۴۶۷؛ والتلخیص ۱/۴۶۷؛ وصحیح سنن أبي داود ۱/۳۷۹۔)