کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 312
۸: نر اور مادہ دونوں کی قربانی کا جائز ہونا:
حج کی قربانی کے حوالے سے آسانیوں میں سے ایک یہ ہے، کہ نر اور مادہ دونوں قسم کے جانور ذبح کرنا درست ہے۔ اس بارے میں ذیل میں دو حدیثیں ملاحظہ فرمایئے:
ا: حضرات ائمہ ابوداؤد، ابن ماجہ، ابن خزیمہ اور حاکم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ:
’’أَھْدَی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ فِيْ ہَدَایَاہُ جَمَلًا لِأَبِيْ جَہْلٍ۔‘‘[1]
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال قربانیوں میں ابوجہل کا اونٹ[2] قربانی کی غرض سے بھیجا۔‘‘
ب: امام مسلم نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:
’’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، تو ہم نے اونٹ اور گائے کو
[1] سنن أبي داود، کتاب المناسک، باب في الہدي، جزء من رقم الحدیث ۱۷۴۶، ۵/۱۱۸؛ وسنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، رقم الحدیث ۳۱۰۰، ۹/۲۸۳؛ وصحیح ابن خزیمۃ، کتاب المناسک، جزء من رقم الحدیث ۲۸۹۷، ۴/۲۸۶؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب المناسک، ۱/۴۶۷۔ الفاظِ حدیث المستدرک کے ہیں۔ امام حاکم نے اسے [مسلم کی شرط پر صحیح] کہا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے۔ شیخ البانی نے سنن ابی داؤد کی روایت کو [حسن] اور صحیح ابن خزیمہ کی [سند کو صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱/۴۶۷؛ والتلخیص ۱/۴۶۷؛ وصحیح سنن أبي داود ۱/۳۲۸؛ وہامش صحیح ابن خزیمۃ ۴/۲۸۶)۔
[2] ابوجہل کا یہ اونٹ غزوہ بدر میں ملنے والے مال غنیمت میں سے تھا۔ (ملاحظہ ہو: عون المعبود ۵/۱۱۸)۔