کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 303
’’اِرْکَبْہَا۔‘‘
’’اس پر سوار ہوجاؤ۔‘‘
تو اس (شخص) نے عرض کیا:
’’إِنَّہَا بَدَنَۃٌ۔‘‘
’’بے شک یہ تو قربانی کا جانور ہے۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا:
’’اِرْکَبْہَا، وَیْلَکَ۔‘‘[1]
’’اس پر سوار ہوجاؤ، تمہارے لیے ہلاکت ہو۔‘‘
ب: امام مسلم نے ابوزبیر سے روایت نقل کی ہے، کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق سوال کیا گیا، تو میں نے انہیں (یہ بیان کرتے ہوئے) سنا:
’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
’’اِرْکَبْہَا بِالْمَعْرُوْفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَیْہَا، حَتَّی تَجِدَ ظَہْرًا۔‘‘[2]
’’جب تمہارے پاس اس پر سوار ہونے کے سوا چارہ کار نہ ہو، تو (دوسری) سواری میسر آنے تک اس پر معروف طریقے[3] سے سوار ہوجاؤ۔‘‘
[1] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الحج، رقم الحدیث ۱۶۸۹، ۳/۵۳۶؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، رقم الحدیث ۳۷۱۔ (۱۳۲۲)، ۲/۹۶۰۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔ اسی مضمون کی حدیث امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی روایت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، رقم الحدیث ۱۶۹۰، ۳/۵۲۶؛ وصحیح مسلم، رقم الحدیث ۳۷۳۔ (۱۳۲۳)، ۲/۹۶۰)۔
[2] المرجع السابق، رقم الحدیث ۳۷۵۔ (۱۳۲۴)، ۲/۹۶۱۔
[3] یعنی ایسے طریقے سے کہ قربانی کے جانور کو ضرر نہ پہنچے۔ (ملاحظہ ہو: شرح الطیبي ۶/۲۰۰۳؛ ومرقاۃ المفاتیح ۵/۵۲۲)۔