کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 282
’’وَلِلْمُقَصِّرِیْنَ۔‘‘[1]
’’اور (بال) کٹوانے والوں کی (بھی اے اللہ! مغفرت فرما دیجیے)۔‘‘
ان حدیثوں کے حوالے سے تین باتیں:
ا: احرام کھولنے سے پیشتر بال منڈوانے اور ترشوانے، دونوں میں سے جو چاہے، کرے۔ امام بخاری نے ایک باب کا حسب ذیل عنوان تحریر کیا ہے:
[بَابُ الْحَلْقِ وَالتَّقْصِیْرِ عِنْدَ الْإِحْلَالِ] [2]
[احرام کھولتے وقت بال مونڈنے اور کاٹنے کے متعلق باب]
ب: امام حسن بصری سے نقل کیا گیا ہے، وہ کہا کرتے تھے، کہ پہلی دفعہ حج کرنے والے کے لیے بال مونڈنا ضروری ہے، ان کا کاٹنا اسے کفایت نہیں کرے گا۔[3]
علامہ نووی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وَہٰذَا، إِنْ صَحَّ عَنْہُ، مَرْدُوْدٌ بِالنُّصُوْصِ، وَإِجْمَاعِ مَنْ قَبْلَہُ۔‘‘[4]
’’اگر ایسا کہنا ان سے ثابت ہو، تو احادیث[5] اور ان سے پہلے (علمائے امت کے) اجماع کی بنا پر رد کیا جائے گا۔‘‘
[1] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الحج، رقم الحدیث ۱۷۲۸، ۳/۵۶۱؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، رقم الحدیث ۳۲۰۔ (۱۳۰۷)، ۲/۹۴۶۔ الفاظِ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔
[2] صحیح البخاري ۳/۵۶۱۔
[3] منقول از: شرح النووي ۹/۴۹۔
[4] المرجع السابق ۹/۴۹۔۵۰۔
[5] مذکورہ بالا دو حدیثوں کے علاوہ دیگر احادیث بھی بال منڈوانے اور ترشوانے دونوں کے جواز پر دلالت کرتی ہیں۔ (ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب الحج، باب تقصیر المتمتّع بعد العمرۃ، رقم الحدیث ۱۷۳۱، ۳/۵۶۷؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، باب تفضیل الحلق علی التقصیر وجواز التقصیر، جزء من رقم الحدیث ۳۱۶۔ (۱۳۰۱)، ۲/۹۴۵)۔