کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 278
ب: امام شافعی، اصحاب رائے اور امام احمد سے ایک روایت کے مطابق احرام کی پابندیاں رمی جمرہ اور حجامت کے بعد ختم ہوتی ہیں،[1] ان حضرات نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا ہے:
’’إِذَا رَمَیْتُمْ وَحَلَقْتُمْ، فَقَدْ حَلَّ لَکُمُ الطِّیْبُ وَالثِّیَابُ وَکُلُّ شَيْئٍ إِلَّا النِّسَائَ۔‘‘[2]
’’جب تم رمی کرلو اور سر مونڈ لو، تو تمہارے لیے عورتوں کے سوا خوشبو، کپڑے اور ہر چیز جائز ہے۔‘‘
ایک اور روایت میں یہ بھی ہے:
’’وَذَبَحْتُمْ۔‘‘[3]
’’اور تم ذبح کرلو۔‘‘[4]
لیکن یہ حدیث [قربانی کرنے اور سر مونڈنے] کے اضافوں کے ساتھ ضعیف ہے۔[5]
ج: حضراتِ ائمہ عطاء، مالک، ابوثور اور امام احمد کی دوسری روایت کے مطابق رمی جمرہ سے ازدواجی تعلقات کے سوا احرام کی دیگر تمام پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔
اس قول کے متعلق علامہ ابن قدامہ رقم طراز ہیں:
[1] ملاحظہ ہو: المغني ۵/۳۰۹؛ نیز ملاحظہ ہو: بدائع الصنائع ۲/۱۳۲۔
[2] ملاحظہ ہو: المسند، رقم الحدیث ۲۵۱۰۳، ۴۰۴۲۔ نیز ملاحظہ ہو: بدائع الصنائع ۲/۱۳۲۔
[3] ملاحظہ ہو: السنن الکبری للبیہقی، کتاب الحج، باب ما یحلّ بالتحلّل الأول من محظرات الإحرام، رقم الروایۃ ۹۵۹۸، ۵/۲۲۲۔
[4] یعنی جب تم رمی اور قربانی کرلو اور سر مونڈلو، تو تمہارے لیے عورتوں کے سوا خوشبو، کپڑے اور ہر چیز جائز ہے۔
[5] ملاحظہ ہو: بلوغ المرام (المطبوع مع سبل السلام) ۲/۴۲۵؛ وسلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ، رقم الحدیث ۱۰۱۳، ۳/۷۴۔۷۵؛ وہامش المسند للشیخ الأرناؤوط ورفقائہ ۴۲/۴۰۔