کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 271
کرکے رات کو رمی کرے، تو ایسا کرنا اسے کفایت کرجائے گا اور اس کے ذمے کچھ نہیں ہوگا، لیکن زیادہ احتیاط کی بات یہ ہے، کہ وہ مستقبل میں دن ہی کو رمی کرنے کی کوشش کرے۔‘‘
خلاصہ گفتگو یہ ہے، کہ پہلی حدیث کے مطابق رات کو رمی کرنے میں نہ گناہ اور نہ ہی فدیہ ہے اور یہ اجازت سب کے لیے ہے۔ دوسری حدیث میں چرواہوں کو رات میں رمی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس حدیث پر قیاس کرتے ہوئے ہر عذر والا شخص بھی رات کو رمی کرسکتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی زوجہ اور ان کی بھتیجی کو بوجہ عذر دن میں رمی نہ کرسکنے کی بنا پر، رات کو رمی کا حکم دیا۔
۵: عذر والے کا دو دن کی رمی ایک دن میں کرنا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ذوالحجہ سے تیرہ ذوالحجہ تک منیٰ میں ٹھہرے اور ہر روز کی رمی اسی دن کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کے لیے یہ سہولت فرمائی، کہ وہ گیارہ اور بارہ تاریخ دو دنوں کی رمی ایک ہی دن میں کرلیں۔
حضرات ائمہ ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے:
’’أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم رَخَّصَ لِلرُّعَاۃِ فِيْ الْبَیْتُوْتَۃِ، یَرْمُوْنَ یَوْمَ النَّحْرِ، وَالْیَوْمَیْنِ الَّذَیْنِ بَعْدَہُ یَجْمَعُوْنَہُمَا فِيْ أَحِدِہِمَا۔‘‘[1]
[1] سنن أبي داود، کتاب المناسک، باب في رمي الجمار، رقم الحدیث ۱۹۷۳، ۵/۳۱۳۔۳۱۴؛ وجامع الترمذي، کتاب الحج، باب ما جاء فی الرخصۃ للرعاۃ أن یرموا یومًا ویدعوا یومًا، رقم الحدیث ۹۶۲، ۲۵۔۲۶؛ وسنن النسائي، کتاب مناسک الحج، رمي الرعاۃ، ۵/۲۷۳؛ وسنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، رقم الحدیث ۳۰۳۷، ۹/۷۳۔۷۴ (المطبوع مع إنجاز الحاجۃ)۔ الفاظِ حدیث سنن النسائی کے ہیں۔ امام الترمذي نے اسے [حسن صحیح] اور شیخ البانی نے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: جامع الترمذي ۳/۸۵۰؛ وصحیح سنن النسائي ۲/۶۴۲)۔