کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 270
’’بیماری یا اپنی جان یا مال کے خوف کے عذر والا ہر شخص اس بارے میں چرواہوں کی طرح ہے، کیونکہ ان (عذر والوں) کا معاملہ ان (چرواہوں) جیسا ہے۔‘‘[1] د: امام مالک نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے رات کو رمی کرنے کے فتویٰ کو درجِ ذیل عنوان کے ضمن میں روایت کیا ہے: [بَابُ الرُّخْصَۃِ فِيْ رَمْيِ الْجَمَارِ] [2] [رمی جمرات میں رخصت کے متعلق باب] ہ: سعودی عرب کی مجلس دائمی برائے علمی تحقیقات و افتاء نے ایک فتویٰ دیتے ہوئے تحریر کیا ہے: ’’مَنْ أَخَّرَ رَمْيَ الْجَمَارِ فِيْ الْیَوْمِ الْحَادِيْ عَشَرَ، حَتَّی أَدْرَکَہُ اللَّیْلُ، وَتَأْخِیْرُہُ لِعُذْرٍ شَرْعِيٍّ، وَرَمَی الْجَمَارَ لَیْلًا، فَلَیْسَ عَلَیْہِ فِيْ ذٰلِکَ شَيْئٌ۔ وَہٰکَذَا مَنْ أَخَّرَ الرَّمْيَ فِیْ الْیَوْمِ الثَّانِیْ عَشَرَ، فَرَمَاہُ لَیْلًا أَجْزَأَہُ ذٰلِکَ وَلَا شَيْئٌ عَلَیْہِ، وَلٰکِنَّ الْأَحْوَطَ أَنْ یَجْتَہِدَ فِيْ الرَّمْيِ نَہَارًا فِيْ الْمُسْتَقْبَلِ۔‘‘[3] ’’جو شخص رمی جمرات میں تاخیر کرے، یہاں تک کہ رات ہوجائے اور وہ رات میں رمی کرے اور اس کی تاخیر شرعی عذر کی بنا پر ہو، تو اس کے ذمے اس بنا پر کچھ نہیں ہوگا۔ اسی طرح جو شخص بارہ تاریخ کی رمی میں تاخیر
[1] (اس بارے میں) سے مراد منیٰ میں رات بسر کرنے میں رعایت، دو دن کی رمی ایک دن کرنے میں اور رات کو رمی کرنے میں ہے۔ (ملاحظہ ہو: الکافي ۲/۴۵۱۔۴۵۲)۔ [2] الموطأ ۱/۴۰۹۔ [3] فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والإفتاء، جزء من الفتوی رقم (۱۶۱۱)، ۱۱/۲۸۲۔