کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 268
’’کوئی مضایقہ نہیں۔‘‘
ب: امام بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے: وہ بیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اَلرَّاعِيْ یَرْمِيْ بِاللَّیْلِ وَیَرْعَی بِالنَّہَارِ۔‘‘[1]
’’چرواہا رات کو رمی کرے اور دن میں (جانوروں کو) چرائے۔‘‘
ج: امام مالک نے حضرت نافع سے روایت نقل کی ہے، کہ صفیہ بنت عبید[2] کی بھتیجی کے ہاں مزدلفہ میں بچہ پیدا ہوا، تو وہ اور صفیہ، دونوں وہیں رک گئیں اور قربانی کے دن (ہی) غروبِ آفتاب کے بعد منیٰ آئیں۔
ان دونوں کے آنے پر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں رمی جمرہ کا حکم دیا اور ان کی رائے میں ان کے ذمے کوئی چیز (یعنی فدیہ وغیرہ) نہ تھی۔[3]
ان روایات کے حوالے سے پانچ باتیں:
ا: (لَا حَرَجَ) سے مراد یہ ہے، کہ ایسا کرنے میں نہ گناہ ہے اور نہ فدیہ۔[4]
ب: بعض علماء نے اس حدیث سے رات کو رمی کے جواز کے استدلال پر درجِ ذیل دو اعتراضات کیے ہیں:
ا: (بَعْدَمَا أَمْسَیْتُ) سے سائل کا مقصود زوال کے بعد رمی کے متعلق پوچھنا تھا، رات کو رمی کے بارے میں اس کا سوال نہ تھا۔
[1] السنن الکبری، کتاب الحج، باب الرخصۃ في أن یرعوا نہارًا ویرموا لیلًا إن شاء وا، رقم الروایۃ ۹۲۷۷، ۵/۲۶۴۔ حافظ ابن حجر نے اس کی [سند کو حسن] اور شیخ البانی نے اس حدیث کو [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: مناسک الحج والعمرۃ للشیخ الألباني ص۳۹؛ وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۵/۶۲۲۔۶۲۴)۔
[2] یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی زوجہ محترمہ تھیں۔ (ملاحظہ ہو: أضواء البیان ۵/۲۸۵)۔
[3] الموطأ، کتاب الحج، رقم الروایۃ ۲۲۰، ۱/۴۰۹۔
[4] ملاحظہ ہو: مرقاۃ المفاتیح ۵/۵۴۱۔