کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 266
ز: رمی سے پہلے طوافِ زیارت کے متعلق علماء کی آراء:
علامہ ابن بطال ہی نے تحریر کیا ہے: رمی سے پہلے طوافِ زیارت کرنے والے کے بارے میں اختلاف ہے۔ شافعی نے کہا: حدیث کی نص کے مطابق اس کا طواف ہوگیا، (اب) وہ رمی کرلے۔ مالک سے روایت ہے، کہ وہ رمی کرے، پھر (سر) منڈائے، پھر دوبارہ طواف کرے اور اگر وہ اپنے وطن لوٹ چکا ہے، تو اس پر دم ہے اور (رمی سے پہلے کیا ہوا) طواف اسے کفایت کرجائے گا۔
یہ (مالک کی رائے) ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیث کے خلاف ہے۔ میرا خیال ہے، کہ مالک کو یہ حدیث پہنچی نہ ہوگی۔[1]
ح: علامہ قرطبی کی رائے:
علامہ قرطبی دس ذوالحجہ کے چاروں اعمال میں تقدیم و تاخیر کے متعلق مختلف اقوال اور ان کے دلائل تحریر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’وَالظَّاہِرُ مِنَ الْأَحَادِیْثِ مَذْہَبُ الشَّافِعِِّي وَأَصْحَابِ الْحَدِیْثِ۔‘‘[2]
’’احادیث سے شافعی اور اصحاب حدیث کا مذہب (ہی) ظاہر ہوتا ہے۔‘‘
اور ان کا مذہب یہ ہے، کہ چاروں اعمال میں قصداً، سہوا، لاعلمی اور جانتے ہوئے تقدیم و تاخیر کرنے میں نہ گناہ ہے اور نہ ہی فدیہ اور بلاشک و شبہ اس میں حج
[1] ملاحظہ ہو: شرح ابن بطال ۴/۳۹۸؛ نیز ملاحظہ ہو: المحلّی، ۸۴۵۔ مسألۃ، ۷/۲۶۰۔۲۶۵۔ امام نخعی اور ان کے پیروکار ارشاد ربانی: {وَ لَا تَحْلِقُوْا رُئُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ} (البقرۃ/جزء من الآیۃ ۱۹۶) [تم قربانی کے اپنی جگہ پہنچ جانے تک اپنے سروں کو نہ منڈاؤ] سے استدلال کرتے ہیں، لیکن اس آیت سے استدلال تب مکمل ہوتا، جب کہ الفاظ یوں ہوتے: {ولا تحلقوا رؤوسکم حتی تنحروا} [تم ذبح کرنے تک اپنے سر نہ منڈاؤ]۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري ۳/۵۷۱۔۵۷۲)۔
[2] المفہم ۳/۴۰۹۔