کتاب: حج وعمرہ کی آسانیاں - صفحہ 258
’’لَا حَرَجَ۔‘‘
’’کوئی مضایقہ نہیں۔‘‘
(پھر) اس نے عرض کیا:
’’حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ۔‘‘
’’میں نے قربانی سے پہلے سر مونڈا۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لَا حَرَجَ۔‘‘
’’کوئی مضایقہ نہیں۔‘‘
(پھر) اس نے عرض کیا:
’’ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ۔‘‘
’’میں نے رمی سے پہلے قربانی کی۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لَا حَرَجَ۔‘‘[1]
’’کوئی مضایقہ نہیں۔‘‘
[1] صحیح البخاري، کتاب الحج، باب الذبح قبل الحلق، رقم الحدیث ۱۷۲۲، ۳/۵۵۹۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت کردہ حدیث میں ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبرو ایک شخص نے عرض کیا، کہ اس نے رمی سے پہلے قربانی کی ہے۔ ایک دوسرے شخص نے عرض کیا، کہ اس نے قربانی سے پہلے سر مونڈا ہے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے شخص سے فرمایا: ’’رمی کرو اور کوئی حرج نہیں‘‘ اور دوسرے شخص کو فرمایا: ’’قربانی کرو اور کوئی حرج نہیں۔‘‘ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق، رقم الحدیث ۱۷۳۷، ۳/۵۶۹؛ وصحیح مسلم، کتاب الحج، باب من حلق قبل النحر أو نحر قبل الرمي، رقم الحدیث ۳۲۷۔ (۱۳۰۶)، ۲/۹۴۸)۔ یہی صورت حال امام ابن ماجہ کی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے۔ (ملاحظہ ہو: سنن ابن ماجہ، باب من قدّم نسکا علی نسک، رقم الحدیث، ۳۰۵۲، ۴/۴۹۹)۔