کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 98
لَمْ نَرُدَّہُ عَلَیْکَ اِلاَّ اَنَّا حُرُمٌ ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنگلی گدھا (شکار کر کے) ہدیہ پیش کیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی ابواء یا ودان میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدیہ واپس لوٹا دیا لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صعب رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ملال دیکھا تو فرمایا ہم نے یہ ہدیہ صرف اس لئے لوٹایا ہے کہ ہم احرام میں ہیں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 118: حالت احرام میں جنسی افعال یا گفتگو‘ لڑائی جھگڑا یا کوئی نافرمانی کا کام کرنا منع ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم (( مَنْ حَجَّ ہٰذَا الْبَیْتَ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[2] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے اللہ (کی رضا) کے لئے حج کیا اور اس میں کوئی جنسی بات یا جنسی عمل نہیں کیا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی وہ (حج کے بعد اسی طرح گناہوں سے پاک ہو کر) اس دن کی طرح گھر واپس آتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے (گناہوں سے پاک) جنا تھا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ وضاحت:حالت احرام میں اپنی بیوس سے بوس وکنار پر ایک قربانی فدیہ ہے اگر شہوت کی وجہ سے انزال ہو جائے تب بھی اس کا فدیہ ایک قربانی ہے۔ اس کے علاوہ توبہ واستغفار کرنا بھی ضروری ہے۔ مسئلہ 119: حالت احرام میں بیوی سے صحبت کرنا منع ہے ایسا کرنے پر حج باطل ہو جاتا ہے۔ وضاحت: 1. حدیث مسئلہ نمبر 124 کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ 2.حالت احرام میں بیوی سے صحبت کرنے کا فدیہ ایک اونٹ کی قربانی اور دوسرا حج ادا کرنا ہے۔ خواہ حاجی کا حج فرض ہو یا نفل۔ یاد رہے حاجی کو اپنا موجودہ حج بھی مکمل کرنا ہو گا۔ [1] کتاب الحج ، باب تحریم الصید الماکول البری علی المحرم.