کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 89
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم اَنَّہُ ادَّہَنَ بِزَیْتٍ غَیْرِ مُقَتَّتٍ وَہُوَ مُحْرِمٌ ۔رَوَاہُ اَحْمَدُ[1] حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں ایسا تیل استعمال کیا جس میں خوشبو نہیں تھی۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 95: حالت احرام میں خوشبو دار پھول سونگھنا جائز ہے۔ مسئلہ 96: حالت احرام میں انگوٹھی‘ پیٹی‘ عینک اور گھڑی وغیرہ استعمال کرنا جائز ہے۔ مسئلہ 97: کھائی اور پی جانے والی ادویات کے ذریعے حالت احرام میں علاج کرنا جائز ہے۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَشَمُّ الْمُحْرِمُ الرَّیْحَانَ وَیَنْظُرُ فِیْ الْمِرْاَةِ وَیَتَدَاوَی بِمَا یَاکُلُ الزَّیْتَ وَالسَّمْنَ وَقَالَ عَطَاءٌ یَتَخَتَّمُ وَیَلْبَسُ الْہِمْیَانَ ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[2] حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں محرم ریحان (پھول) سونگھ سکتاہے، آئینہ دیکھ سکتاہے اور جن چیزوں کو کھا سکتاہے مثلاً تیل اور گھی (وغیرہ) ان کو دوا کے طور پر استعمال کر سکتاہے۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں محرم انگوٹھی پہن سکتاہے اور پیٹی باندھ سکتا ہے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 98: حالت احرام میں سر اور بدن کھجلانا جائز ہے۔ عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا سُئِلَتْ عَنِ الْمُحْرِمِ یُحِکُّ جَسَدَہ قَالَتْ نَعَمْ فَلْیُحَکِّکْہُ وَ الْیُشَدِّدُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[3] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ”کیا محرم بدن کھجلا سکتا ہے؟ “کہا ”ہاں بلکہ زور سے کھجلائے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 99: حالت احرام میں خیمہ‘ چھت یا چھتری سے سر پر سایہ کرنا جائز ہے۔ [1] کتاب الحج ، باب جواز مداواۃ المحرم عینیہ. [2] کتاب الحج ، باب ما یباح للمحرم. [3] کتاب الحج ، باب جواز الحجامۃ للمحرم.