کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 88
ہے۔ “اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: ہاتھ منہ صاف کرنے یا غسل کرنے کے لئے ایسا صابن استعمال کیا جاسکتا ہے جس میں خوشبو نہ ہو۔ مسئلہ 92: حالت احرام میں آنکھوں کے علاج کے لئے سرمہ یا کوئی دوا ڈالنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں خوشبو نہ ہو۔ عَنْ عُثْمَانَ رضی اللّٰهُ عنہ حَدَّثَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم فِیْ الرَّجُلِ اِذَا اشْتَکٰی عَیْنَیْہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَہُمَا بِالصَّبْرِ ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت ِ احرام میں جس کی آنکھیں دکھتی ہوں اس کے بارے میں ارشاد فرمایا ”کہ وہ اپنی آنکھوں پر ایلوے (دوا کا نام) کا لیپ کرے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ قَالَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَکْتَحِلِ الْمُحْرِمُ بِاَیِّ کُحْلٍ اِذَا رَمَدَ مَا لَمْ یَکْتَحِلِ بِطِیْبٍ وَمِنْ غَیْرِ رَمَدٍ ۔ذَکَرَہُ فِیْ فِقَةِ السُّنَّةِ[2] حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں محرم جو سرمہ چاہے استعمال کر سکتا ہے خواہ آنکھیں دکھتی ہوں یا نہ دکھتی ہوں بشرطیکہ سرمہ میں خوشبو نہ ہو۔ یہ روایت فقہ السنہ میں ہے مسئلہ 93: حالت احرام میں علاج کے طور پر جسم کے کسی حصہ سے خون نکلوانا اور مرہم پٹی کروانا جائز ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم احْتَجَمَ وَہُوَ مُحْرِمٌ ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ[3] حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں پچھنے لگوائے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 94:حالت احرام میں ایسا تیل اور صابن استعمال کرنا جائز ہے جس میں خوشبو نہ ہو۔ [1] کتاب الحج ، باب جواز غسل المحرم بدنہ وراسہ.