کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 86
بِالنِّیَاتِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[1] حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ” اعمال (کے اجروثواب) کا دارومدار نیتوں پر ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : احرام کی پابندیاں وہیں سے شروع ہوں گی جہاں سے احرام کی نیت کی جائے گی۔ مسئلہ 88: احرام باندھنے کے بعد کوئی رکاوٹ پیش آجانے کی وجہ سے عمرہ یا حج ادا نہ کر سکنے کی صورت میں حاجی یا معتمر (عمرہ کرنے والا) کو ایک جانور ذبح کر کے احرام کھول دینا چاہئے۔ وضاحت: حدیث مسئلہ نمبر 122 کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ مسئلہ 89: اگر کسی شخص کو بیماری یا سر کی تکلیف کے باعث یو م نحر سے قبل احرام کھولنا پڑے تو تین روزے رکھنے چاہئیں یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا چاہئے یا ایک بکری ذبح کرنی چاہئے۔ وضاحت: حدیث مسئلہ نمبر 21 کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ مسئلہ 90: مشروط احرام باندھنے پر کوئی دم یا فدیہ نہیں۔ وضاحت: حدیث مسئلہ نمبر 125 کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ [1] کتاب الصلاۃ ، باب اذا صلی فی الثوب الواحد.