کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 76
أَنْوَاع الْإِحْرَامِ احرام کی قسمیں مسئلہ 59: احرام کی درج ذیل قسمیں ہیں۔ 1.عمرہ : اس میں صرف عمرہ کی نیت سے احرام باندھا جاتا ہے۔ 2.حج افراد: اس میں صرف حج کی نیت سے احرام باندھا جاتا ہے۔ 3.حج قران: اس میں عمرہ اور حج دونوں کی نیت سے اکٹھا احرم باندھا جاتا ہے اور حج مکمل ہونے کے بعد کھولا جاتا ہے۔ 4.تمتع: اس میں پہلے عمرہ کی نیت سے احرام باندھا جاتا ہے اور عمرہ مکمل ہونے کے بعد کھول دیا جاتا ہے۔ ایام حج میں اپنی رہائش گاہ سے ہی دوبارہ احرام باندھا جاتا ہے اور حج مکمل ہونے کے بعد کھولا جاتا ہے۔ عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّہَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ اَہَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ اَہَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ اَہَلَّ بِالْحَجِّّ وَاَہَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم بِالْحَجِّ فَاَمَّا مَنْ اَہَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَاَمَّا مَنْ اَہَلَّ بِحَجٍّ اَوْ جَمَعَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ یَحِلُّوْ حَتّٰی کَانَ یَوْمُ النَّحْرِ ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم حجة الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لئے) نکلے ہم میں سے بعض لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا (یعنی حج قران کا) بعض نے صرف حج کا( یعنی حج افراد کا) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا تھا۔ پس جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ (عمرہ ادا کرنے کے بعد) حلال ہو گئے (یعنی احرام کھول دیا) جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا وہ قربانی کے دن تک احرام میں ہی رہے۔ اسے
[1] منتقی الاخبار ، کتاب الحج ، باب ما جاء فی اشہر الحج. [2] کتاب الحج ، باب قول اللہ تعالی ﴿ اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَعْلُوْمَاتٌ اِلٰی قَوْلِہٖ فِی الْحَجِّ … ﴾.