کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 75
مسئلہ 57: حج کا احرام حج کے مہینوں میں ہی باندھنا چاہئے۔ مسئلہ 58: حج کے مہینے یہ ہیں۔ شوال‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ۔ عَنْ اِبْنِ جُرَیْحٍ رَحِمَہُ اللّٰہُ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ رضی اللّٰهُ عنہ أَ سَمِعْتَ عَبِدِاللّٰہِ بِنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یُسَمّٰی اَشْہُرَ الْحَجَّ ؟ قَالَ نَعَمْ کَانَ یُسَمِّیْ شَوَّالُ ذُوْالْقَعْدَةِ وَذُوْ الْحَجَّةِ قُلْتُ لِنَافِعٍ فَاِنْ اَہَلَّ اِنْسَانٌ بِالْحَجِّ قَبْلَہُنْ ؟ قَالَ لَمْ اَسْمَعُ فِیْ ذٰلِکَ مِنْہُ شَیْئًا ۔رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ[1] حضرت ابن جریح رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ”تم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو حج کے مہینوں کا نام لیتے ہوئے سنا ہے؟“ حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے کہا ”ہاں! حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ شوال‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کو حج کے مہینے شمار کرتے تھے۔“ میں نے حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے کہا ”اگر انسان ان حج کے مہینوں سے پہلے احرام باندھ لے تو پھر؟“ تو حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے کہا”میں نے اس بارے میں ان سے کچھ نہیں سنا ( کہ ایسا کرنا بھی جائز ہے۔)“ اسے شافعی نے روایت کیا ہے۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مِنَ السُّنَّةِ اَنْ لاَّ یُحْرِمَ الرَّجُلُ بِالْحَجِّ اِلاَّ فِیْ اَشْہُرِ الْحَجِّ ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[2] حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سنت یہ ہے کہ آدمی حج کا احرام حج کے مہینوں میں ہی باندھے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [1] کتاب الحج ، باب جواز دخول مکۃ بغیر احرام. [2] کتاب الحج ، باب فی مواقیت الحج والعمرۃ.