کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 71
احرام باندھنا جائز نہیں۔ قطر‘ کویت‘ دمام اور الریاض وغیرہ سے بذریعہ کار آنے والے حضرات کوقرن المنازل یا سیل کبیر (طائف اور مکہ کے درمیان میقات) پہنچ کر احرام باندھنا چاہئے جبکہ براستہ ہوائی جہاز جدہ پہنچ کر مکہ مکرمہ آنے والے حضرات کو اپنے شہر یا ملک سے احرام باندھنا چاہئے‘ البتہ احرام کی نیت اور تلبیہ میقات پر پہنچ کر کہنا چاہئے۔4. جدہ کے مقامی لوگوں کو حج اور عمرہ کے لئے جدہ سے ہی احرام باندھنا چاہئے۔5. سعودی عرب کے کسی شہر یا غیر ممالک سے کاروبار یا ڈیوٹی کی نیت سے جدہ آنے والے حضرات اپنے کاروبار یا ڈیوٹی سے فارغ ہونے کے بعد عمرہ یا حج کا ارادہ کریں تو وہ جدہ سے ہی احرام باندھیں۔واللہ اعلم بالصواب! مسئلہ 47: حدود حرم میں عارضی طور پر مقیم یعنی بیرونی حضرات کو بوقت ضرورت عمرہ کا احرام حدود حرم سے باہر یعنی حل میں کسی مقام مثلاً تنعیم یا جعرانہ جا کر باندھنا چاہئے۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَخْبَرَہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم اَمَرَہُ اَنْ یُّرْدِفَ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَیُعْمِرَہَا مِنَ التَّنْعِیْمِ ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[1] حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سواری پر بٹھا کر لے جائیں اورتنعیم سے (احرام باندھ کر) ان کو عمرہ کرائیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے وضاحت: حج پروازوں میں میقات پر پہنچنے سے قبل میقات کا اعلان کیا جاتا ہے تا کہ جو لوگ احرام باندھنا چاہیں وہ احرام باندھ لیں۔ عام پروازوں میں اگر جہاز کے عملہ کو پہلے سے کہہ دیا جائے‘ تو میقات پہنچنے سے قبل میقات کی اطلاع فراہم کر دی جاتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَ رضی اللّٰهُ عنہ فَیْ قَوْلِہ ﴿ بَرَآةٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہ ﴾ قَالَ لَمَّا قَفَلَ النَّبِیُّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم مِنْ حُنَیْنٍ اِعْتَمَرَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ ثُمَّ اَمَّرَ اَبَابَکْرٍ عَلٰی تِلْکَ الْحَجَّةِ۔ رَوَاہُ ابْنُ خُزَیْمَةَ [2] (صحیح) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد مبارک ﴿بَرَآةٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہ ﴾ ”اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان برأت ہے۔“(سورة التوبہ ، آیت نمبر1) کی تفسیر کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ حنین سے واپس تشریف لائے تو جعرانہ سے (احرام باندھ کر) عمرہ ادا کیا۔ پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس (کے بعد ادا کئے گئے) حج کا امیر مقرر فرمایا۔ اس کو ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: 1.مکہ مکرمہ اور میقات کے درمیان رہائش پذیر لوگوں میں اہل حرم (یعنی حدود حرم کے اندر رہائش پذیر لوگ) اور اہل حل (یعنی حدود حرم سے باہر اور میقات کے اندر رہائش پذیر لوگ) دونوں شامل ہیں۔ 2. ملازمت کی غرض سے آئے ہوئے میقات کے اندر مقیم غیر ملکی حضرات کا شمار بھی مستقل رہائش پذیر یعنی مقامی باشندوں میں ہو گا۔ 3. یادر رہے کہ جدہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان کوئی میقات نہیں ہے لہٰذا حج یا عمرہ کے لئے آنے والے بیرونی حضرات کا جدہ پہنچ کر [1] کتاب الحج ، باب عمرۃ التنعیم. [2] کتاب الحج ، باب بیان وجوہ الاحرام.