کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 66
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے”کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ ہر گز تنہائی میں نہ ملے اِلاَّیہ کہ اس (عورت) کا محرم ساتھ ہو نہ ہی کوئی عورت محرم کے بغیر سفر کرے۔“ ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے عرض کیا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری بیوی حج کے لئے چلی گئی اور میں نے فلاں فلاں غزوہ میں اپنا نام لکھوا دیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“ اسے مسلم نے رویت کیا ہے۔ عَنْ یَحْیٰی بِنْ عَبَّادٍ قَالَ کَتَبَتْ اِمْرَاَةٌ مِنْ اَہْلِ الرَّایْ اِلَی اِبْرَاہِیْمَ النَّخْعِیَّ اِنِّیْ لَمْ اَحُجَّ حَجَّةَ الْاِسْلاَمِ وَاَنَا مُوْسِرَةٌ لَیْسَ لِیْ ذُوْ مَحْرَمٍ فَکَتَبَ اِلَیْہَا اَنّکِ مِمَّنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہَ لَہ سَبِیْلاً ۔ذَکَرَہُ فِیْ فِقَةِ السُّنَّةِ[1] حضرت یحییٰ بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رے (ایران کا ایک شہر) کی ایک عورت نے حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے استاد) کو لکھا کہ” میں نے فرض حج ادا نہیں کیا اور میں مالدار ہوں لیکن میرا محرم نہیں ہے (میرے لئے کیا حکم ہے؟)“ حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے عورت کو جواب لکھا ”تو ان لوگوں میں سے ہے جن پر اللہ نے حج فرض نہیں کیا۔“ یہ روایت فقہ السنہ میں ہے۔ وضاحت: حرام رشتوں کی تفصیل درج ذیل ہے: والدہ، والد کی والدہ اور ماں کی والدہ خواہ حقیقی ہو یا سوتیلی بیٹی‘ پوتی‘ نواسی (حقیقی اور سوتیلی)بہن (حقیقی اور سوتیلی)پھوپھی (حقیقی اور سوتیلی)خالہ (حقیقی اور سوتیلی)بھتیجی (خواہ حقیقی بھائی کی بیٹی ہو یا سوتیلے بھائی کی) بھانجی (خواہ حقیقی بہن کی بیٹی ہو یا سوتیلی بہن کی) رضاعی ماں رضاعی بہن (خواہ حقیقی ماں کا دودھ پینے کی و جہ سے یا ایک ہی اَناَّ کا دودھ پینے کی وجہ سے بیوی کی والدہ بیٹے‘ پوتے اور نواسے کی بیوی۔ مسئلہ 38:کسی خاتون کا از خودکسی غیر محرم مرد کو محرم قرار دے کر اس کے ساتھ حج کرنا سنت سے ثابت نہیں۔ مسئلہ 39:کسی خاتون کا محرم کے ساتھ غیر محرم خواتین کا گروپ بنا کرحج کرنا سنت سے ثابت نہیں۔ مسئلہ 40: عورت کے لیے شوہر کی وفات کے بعد حالت عدت میں نہ ہونا بھی [1] کتاب الحج ، باب حج المراۃ.