کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 57
کرے اسے جلدی کرنا چاہئے کیونکہ کبھی آدمی بیمار ہو جاتا ہے، سواری کا بندوبست نہیں ہو سکتا یا کوئی رکاوٹ پیش آجاتی ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ (( تَعَجَّلُوْا اِلَی الْحَجِّ یَعْنِی الْفَرِیْضَةَ فَإِنَّ أَحَدُکُمْ لاَ یَدْرِیْ مَا یَعْرِضُ لَہ )) رَوَاہُ أَحْمَدُ[1] حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فریضہ حج ادا کرنے کے لئے جلدی کرو کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ اسے کیا عذر پیش آجائے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 15: مرنے والے پر حج فرض ہو، تو اس کے ورثاء کو میت کی طرف سے حج ادا کرنا چاہئے۔ وضاحت: حدیث مسئلہ نمبر 380 کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ [1] منتقی الاخبار ، کتاب المناسک ، باب وجوب الحج علی الفوز.