کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 56
أَہَمِیَّةُ الْحَجِّ حج کی اہمیت مسئلہ 13: وسائل رکھنے کے باوجود حج نہ کرنے والا مسلمان نہیں۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللّٰهُ عنہ اَنَّہ قَالَ لَقَدْ ہَمَمْتُ اَنْ أَبْعَثَ رِجَالاً اِلٰی ہٰذِہِ الْأَمْصَارِ فَیَنْظُرُوْا کُلَّ مَنْ کَانَ لَہ جِدَةٌ وَ لَمْ یَحُجَّ لِیُضْرِبُوْا عَلَیْہِمُ الْجِزْیَةَ مَا ہُمْ بِمُسْلِمِیْنَ مَا ہُمْ بِمُسْلِمِیْنَ )) رَوَاہُ سَعِیْدٌ فِیْ سُنَنِہ [1] (حسن) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کچھ آدمیوں کو شہروں میں بھیجوں وہ تحقیق کریں کہ جن لوگوں کو حج کی طاقت ہے اور انہوں نے حج نہیں کیا ان پر جزیہ مقرر کر دیں، ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں، ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ “اسے سعید نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے عَنْ عَلِیٍّ رضی اللّٰهُ عنہ اَنَّہ قَالَ مَنْ قَدَرَ عَلَی الْحَجِّ فَتَرَکَہ فَلاَ عَلَیْہِ اَنْ یَمُوْتَ یَہُوْدِیًّا أَوْ نَصْرَانِیًّا۔ رَوَاہُ سَعِیْدٌ فِیْ سُنَنِہ [2] حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جس نے قدرت ہونے کے باوجود حج نہ کیا، اس کے لئے برابر ہے یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر۔“ اسے سعیدنے اپنی سنن میں روایت کیا ہے مسئلہ 14: وسائل میسر آنے کے بعد حج ادا کرنے میں تاخیر کرنا جائز نہیں۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم ((مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْیَتَعَجَّلْ فَإِنَّہ قَدْ یَمْرَضُ الْمَرِیْضُ وَ تَضِلُّ الضَّالَّةُ وَ تَعْرِضُ الْحَاجَةُ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَةَ [3] (حسن) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص حج کا ارادہ [1] منتقی الاخبار ، کتاب المناسک ، باب وجوب الحج علی الفور. [2] کتاب المناسک ، باب الخروج الی الحج. [3] الحج والعمرۃ والزیارۃ ، للشیخ عبدالعزیز بن باز ، ص 8.