کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 43
13 رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان’’ رَبَّنَا اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘‘ پڑھنا اور باقی طواف میں جو بھی قرآنی یا نبوی دعائیں یاد ہوں وہ پڑھنا۔ (مسئلہ نمبر 175) 14. ایک طواف کے لئے سات چکر پورے کرنا۔ (مسئلہ نمبر 161) 15. سات چکر پورے کرنے کے بعد وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی[1] پڑھتے ہوئے مقام ابراہیم کی طرف آنا اور وہاں (یا جہاں بھی جگہ ملے) دو رکعت نماز ادا کرنا، پہلی رکعت میں قُلْ یَآٰ اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ،اور دوسری میں قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اََحَدٌ پڑھنا۔ (مسئلہ نمبر 184،191 ) 16. نماز کے بعد آب زمزم پینا اور کچھ سر پر ڈالنا۔ (مسئلہ نمبر 187) 17. زمزم پینے کے بعد پھر حجر اسود کا استلام کرنا اور سعی کے لئے صفا پہاڑی کی طرف جانا۔ (مسئلہ نمبر 191) 18. صفا پہاڑی پر چڑھتے ہوئے اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَاِنَّ اللّٰہَ شِاکِرٌ عَلِیْمٌ [2] پڑھنا اور پھر یہ الفاظ کہنا اَبْدَئُ بِمَا بَدَئَ اللّٰہُ بِہٖ[3] (مسئلہ نمبر 212) 19. صفا پہاڑی کے اوپر چڑھ کر قبلہ رخ کھڑے ہونا اور تین مرتبہ یہ کلمات کہنا اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ اَنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ [4] اور درمیان میں دعائیں مانگنا۔ (مسئلہ نمبر 211، 212) 20. صفا سے سعی کا آغاز کر کے مروہ پہاڑی پر جانا اور وہی عمل دہرانا جو اوپر نمبر 18 اور19 میں دیا گیا ہے۔(مسئلہ نمبر 215) [1] (ترجمہ)اور مقام ابراہیم کو اپنی نماز کی جگہ بناؤ. [2] (ترجمہ) بے شک صفا اور مروہ پہاڑیاں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں لہٰذا جو شخص اللہ کا حج کرے اس کے لئے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرے اور جو کوئی برضاو رغبت بھلائی کا کام کرے گا اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور اللہ بڑا قدر دان ہے۔ (سورہ بقرہ۔آیت نمبر ۱۵۸). [3] (ترجمہ) میں سعی کی ابتداء اسی (پہاڑی) سے کرتا ہوں جس (کے ذکر) سے اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید) میں ابتداء کی. [4] (ترجمہ) اللہ اکبر‘ اللہ اکبر‘ اللہ اکبر‘ کے سوا کوئی الہٰ نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہی اور حمد اسی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں وہ اکیلا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا لشکروں کو شکست دی.