کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 28
اس کا مطلب یہ ہے کہ یوم عرفہ، جمعہ کے روز آئے یا کسی دوسرے دن۔ ذی الحجہ میں ادا کیا گیا ہر حج‘ حج اکبر ہی کہلائے گا۔ یاد رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی کہ آج یوم نحر ہے اور یہ یوم ”حج اکبر“ ہے۔ گویا ہر حج میں قربانی کا دن حج اکبر کا دن ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی مسند میں ایک باب کا نام ہی یہ رکھا گیا ہے ”یوم حج اکبر سے مراد یوم نحر ہے“[1] اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہر سال یوم نحر یوم حج اکبر ہے اور ہر سال کا حج‘ حج اکبر کہلاتا ہے۔ حج کو” حج اکبر“ کہنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ عمرہ میں چونکہ حج کے کچھ ارکان شامل ہیں اس لئے اہل عرب عمرہ کو ”حج اصغر“ کہتے تھے ، لہٰذا ذو الحجہ میں ادا کئے گئے حج کو ”حج اصغر“ سے ممیز کرنے کے لئے ”حج اکبر“ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے اور اب بھی اہل علم اسی مفہوم کے ساتھ یہ دونوں اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ (ب) بڑا عمرہ اور چھوٹا عمرہ: بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو عمرہ میقات سے احرام باندھ کر کیا جاتا ہے وہ بڑا عمرہ ہوتا ہے اور جو عمرہ تنعیم یا جعرانہ سے احرام باندھ کر کیا جائے وہ چھوٹا عمرہ ہوتا ہے۔ احادیث سے نہ تو چھوٹے بڑے عمرہ کے الفاظ ثابت ہیں نہ ہی مذکورہ فرق احادیث سے ثابت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر میں چار عمرے ادا فرمائے تین مدینہ منورہ سے آکر یعنی ذوالحلیفہ سے احرام باندھ کر اور ایک غزوہ حنین سے واپسی پر جعرانہ سے احرام باندھ کر، لیکن قیام مکہ کے دوران تنعیم یا جعرانہ جا کر احرام باندھنا نہ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ عظام رحمہ اللہ سے، بلکہ اہل علم نے ہمیشہ ہی اس کے ناپسندیدہ ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ تنعیم یا جعرانہ سے احرام باندھ کر عمرہ کرنے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجةالوداع کے لئے تشریف لائیں تو راستے میں انہیں حیض کی شکایت ہوگئی جس وجہ سے وہ حج سے قبل عمرہ ادا نہ کر سکیں۔ حج کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ انہیں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو) تنعیم لے جاؤ تا کہ وہاں سے احرام باندھ کر یہ عمرہ کر سکیں۔ اگر ایسی ہی کوئی مجبوری یا عذر کسی کو درپیش ہو تو پھر تنعیم سے احرام باندھ کرعمرہ کرنا درست ہے اور وہ عمرہ ویسا ہی ہوگا جیسا میقات سے احرام باندھ کر کیا گیا عمرہ۔ اسے چھوٹا عمرہ کہنا درست نہیں ہو گا۔ [1] الدلیل علی ان المراد یوم الحج الاکبر یوم النحر (فتح الباری ، جزء 12، ص214).