کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 214
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: کُنْتُ اُحِبُّ اَنْ اَدْخُلَ الْبَیْتَ فَاُصَلِّیْ فِیْہِ فَاَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم بِیَدِیْ فَاَدْخَلَنِی الْحِجْرَ فَقَالَ (( اِذَا اَرَدْتِ دُخُوْلَ الْبَیْتِ فَصَلّٰی ہَاہُنَا فَاِنَّمَا ہُوَ قِطْعَۃٌ مِنَ الْبَیْتِ وَلٰکِنَّ قَوْمَکِ اقْتَصَرُوْا حَیْثُ بَنَوْہُ ۔رَوَاہُ النِّسَائِیُّ[1] (صحیح) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں کعبہ شریف میں داخل ہو کر نماز پڑھنا چاہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے حطیم میں لے گئے اور فرمایا ’’جب تم بیت اللہ شریف کے اندر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں (حطیم میں) کھڑے ہو کر نماز پڑھ لو۔ یہ بھی بیت اللہ شریف کا حصہ ہے۔ تیری قوم نے بیت اللہ شریف کی تعمیر کے وقت (حلال کمائی میسر نہ ہونے کی وجہ سے) اسے (اسی غیر مسقف حالت میں) تھوڑا سا تعمیر کر دیا تھا۔‘‘ اسے نسائی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 440: بیت اللہ شریف کے اندر جانے کی سعادت نصیب ہو تو بیت اللہ شریف کے دروازے کے مقابل کی دیوار کی طرف منہ کر کے ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر دو رکعت نماز ادا کرنی چاہئے اس کے بعد بیت اللہ شریف کے چاروں کونوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی تکبیر‘ توحید اور تحمید کے کلمات نیز توبہ استغفار اور دعائیں مانگنی چاہئیں۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم الْکَعْبَۃَ وَدَنَا خُرُوْجُہٗ و َوَجَدْتُ شَیْئًا فَذَہَبْتُ فَجِئْتُ سَرِیْعًا فَوَجَدْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم خَارِجًا فَسَاَلْتُ بِلاَلاً اَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم فِیْ الْکَعْبَۃِ قَالَ نَعَمْ رَکَعَتَیْنِ بَیْنَ السَّارِیَتَیْنِ ۔رَوَاہُ النِّسَائِیُّ[2] (صحیح) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں داخل ہوئے اور نکلنے ہی والے تھے کہ مجھے کوئی چیز یاد آگئی اور میں وہاں سے چلا گیا اور جلدی جلدی واپس آگیا‘ لیکن اتنے میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ شریف سے نکلتے ہوئے پایا۔ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف میں نماز پڑھی ہے؟‘‘ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ’’ہاں! دو ستونوں کے درمیان دو رکعت نماز ادا فرمائی ہے۔‘‘ اسے نسائی نے روایت کیا ہے۔ [1] کتاب العمرۃ ، باب اجر العمرۃ علی قدر النصب. [2] ابواب النذور والایمان ، باب فیمن یحلف بشیء ولن یستطیع.