کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 211
پہنچانے والوں سے) زیادہ فقیہہ ہوتے ہیں۔ تین باتیں ایسی ہیں جن میں مومن کا دل خیانت نہیں کرتا۔1.خالص اللہ کے لئے عمل کرنا۔ 2.مسلمان حاکموں کی بھلائی چاہنا۔ 3.مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ملے رہنا کیونکہ جماعت کے ساتھ رہنے والے کو (جماعت کے) لوگوں کی دعائیں گھیرے رہتی ہیں۔‘‘ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 434: خطبہ حجۃ الوداع کے بعض دیگر ارشادات درج ذیل ہیں۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم خَطَبَ النَّاسَ فِیْ حِجَّۃِ الْوَدَاعِ فَقَالَ ((قَدْ یَئِسَ الشَّیْطَانُ بِاَنْ یُّعْبَدَ بِاَرْضِکُمْ وَلٰکِنَّہٗ رِضٰی اَنْ یُّطَاعَ فِیْمَا سِوٰی ذٰلِکَ مِمَّا تُحَاقِرُوْنَ مِنْ اَعْمَالِکُمْ فَاحْذَرُوْا یَااَیُّہَا النَّاسُ اِنِّی قَدْ تَّرَکْتُ فِیْکُمْ مَّا اِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہٖ فَلَنْ تَضِلُّوْا اَبَدًا کِتَابُ اللّٰہِ وَسُنَّۃِ نَبِیِّہٖ (ا ) اِنَّ کُلُّ مُسْلِمِ اَخُ الْمُسْلِمِ أَلْمُسْلِمُوْنَ اِخَوْۃٌ وَلاَ یَحِلُّ لِإِمْریٍٔ مِنْ مَالِ اَخِیْہِ وَاِلاَّ مَا اَعْطَاہُ عَنْ طِیْبِ نَفْسٍ وَلاَ تَظْلِمُوْا وَلاَ تَرْجِعُوْا مِنْ بَعْدِیْ کُفَّارًا یَّضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ))۔رَوَاہُ الْحَاکِمُ[1] (حسن) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے روز لوگوں کو خطاب کیا اور فرمایا ’’شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہاری اس سر زمین پر کبھی اس کی بندگی کی جائے گی لہٰذا اب وہ اسی بات پر راضی ہے کہ (شرک کے علاوہ) دوسرے اعمال جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو‘ ان میں اس کی پیروی کی جائے‘ لہٰذا شیطان سے خبردار ہو۔ بے شک میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں جسے اگر مضبوطی سے پکڑو گے‘ تو کبھی گمراہ نہین ہو گے۔ وہ ہے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔ (سنو!) بے شک ہر مسلمان‘ دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ (اس طرح) سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور کسی آدمی کے لئے اپنے بھائی کے مال سے کوئی چیز لینا جائزنہیں‘ ہاں اگر وہ آدمی خود اپنی خوشی سے دے۔ آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔‘‘ اسے حاکم نے روایت کیا ہے۔ [1] کتاب المناسک ، باب خطبۃ یوم النحر.