کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 198
رکوع کی طرح جھکنا، سجدہ کرنا یا تلاوت اور ذکر کے لئے بیٹھنا، اس کا طواف کرنا‘ اس کی طرف منہ کر کے دعاء کرنا یا نماز پڑھنامنع ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم ((اَللّٰہُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَبْرِیْ وَثَنَا لَعَنَ اللّٰہُ قَوْمًا اتَّخَذُوْا قُبُوْرًا اَثْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ )) رَوَاہُ اَحْمَدٌ[1] (صحیح) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے فرمایا’’ یا اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا۔‘‘ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 419: ہر نماز کے بعد درود و سلام کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضری کا اہتمام کرنا اور وہاں دیر تک کھڑے رہنا درست نہیں۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم (( لاَ تَجْعَلُوْ بُیُوْتَکُمْ قُبُوْرًا وَلاَ تَجْعَلُوْا قَبْرِیْ عِیدًا وَصَلُّوْا عَلَیَّ فَاِنَّ صَلاَ تَکُمْ تَبْلُغُنِیْ حَیْثُ کُنْتُمْ )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ[2] (صحیح) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ (یعنی گھروں میں نفل نماز پڑھو اور قرآن مجید کی تلاوت کیا کرو) اور میری قبر کو تہوار نہ بناؤ اور مجھ پر درود بھیجو‘ تم جہاں کہیں بھی ہو گے تمہارا درود مجھے پہنچ جائے گا۔‘‘ اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 420: خواتین کا زیارت کے لئے بار بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر آنا پسندیدہ نہیں۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰهُ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم لَعَنَ زَوَّرَاتِ الْقُبُوْرِ ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ[3] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 421: قبر مبارک کی زیارت کا واجب ہونا صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ [1] کتاب الصلاۃ ، باب ما جاء فی الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم . [2] کتاب التفسیر ، باب قولہ عزوجل ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی (صلی اللہ علیہ وسلم ).