کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 197
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ رَحِمَۃُ اللّٰہِ قَالَ رَاَیْتُ عَبْدِاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَقِفُ عَلٰی قَبَرِ النَّبِیِّ(صلی اللّٰهُ علیہ وسلم ) فَیُصَلِّی عَلَی النَّبِیِّا وَ عَلٰی اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ۔ رَوَاہُ مَالِکٌ[1] حضرت عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر کھڑے ہوکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر درود شریف پڑھتے دیکھا ہے۔ اسے مالک نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر درود بھیجنے سے مراد ان کے لئے دعاء کرنا ہے۔ مسئلہ 417: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے مسنون الفاظ درج ذیل ہیں۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم اَمَّا السَّلاَمُ عَلَیْکَ فَقَدْ عَرَفْنَاہُ فَکَیْفَ الصَّلاَۃُ عَلَیْکَ ؟ قَالَ: قُوْلُوْا(( اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ (صلی اللّٰهُ علیہ وسلم )وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ (صلی اللّٰهُ علیہ وسلم ) کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ (علیہ السلام) وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ(علیہ السلام)اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ(صلی اللّٰهُ علیہ وسلم )وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ(صلی اللّٰهُ علیہ وسلم )کَما بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ (علیہ السلام)وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ(علیہ السلام) اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ ))۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[2] حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ’’یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ پر سلام کہنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہے آپ پر درود کیسے بھیجا جائے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کہو اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )اور آل محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )پر اسی طرح رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) اور آل ابراہیم ( علیہ السلام ) پر رحمت نازل فرمائی تھی۔ بے شک تو اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ اے اللہ! محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اور آل محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) اور آل ابراہیم ( علیہ السلام )پر برکتیں نازل فرمائیں بے شک تو اپنی ذات میں آپ محمود ہے اور بزرگ ہے۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 418: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر نماز کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا، [1] فضل الصلاۃ علی النبی للامام اسماعیل بن اسحاق الجہضمی ، رقم الحدیث 100.