کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 191
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’(قیامت کے قریب) ایمان مدینہ میں سمٹ کر اسی طرح واپس آجائے گا جس طرح سانپ پھر پھرا کر اپنے بل میں واپس آجاتا ہے۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 399: مدینہ منورہ کے پہاڑ ’’اُحد‘‘ سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت تھی۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم اِلَی خَیْبَرَ اَخْدُمُہٗ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ رَاجِعًا وَبَدَا لَہٗ اُحُدٌ قَالَ (( ہٰذَا جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہٗ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[1] حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں خیبر جانے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (گھر سے نکلا )وہاں خیبر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے مدینہ واپس لوٹے‘ احد پہاڑ دکھائی دیا تو فرمایا ’’یہ پہاڑ وہ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 400: مدینہ منورہ کی کھجور ’’عجوہ‘‘ جنت کا پھل ہے جس میں زہر اور جادو کے لئے شفا رکھی گئی ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم (( اَلْعْجَوْۃُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَفِیہَا شِفَائٌ مِّنَ السُّمِّ ))رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ[2] (صحیح) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عجوہ کھجور جنت کا پھل ہے اور اس میں زہر کے لئے شفاء ہے۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ وَقَّاصٍ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم (( مَنْ تَصَبَّحَ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَۃً لَمْ یَضُرَّہٗ فِیْ ذٰلِکَ الْیَوْمَ سُمٌّ وَلاَ سِحْرٌ ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[3] حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص ہرروز صبح کے وقت سات عدد عجوہ کھجوریں کھائے گا اس کو اس روز زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘‘ اسے بخاری نے [1] ابواب المناقب ، باب ما جاء فی فضل المدینۃ. [2] کتاب فضائل المدینۃ بابٌ. [3] کتاب الحج ، باب الترغیب فی سکنی المدینۃ. [4] کتاب فضائل المدینۃ ، باب الایمان یارز الی المدینۃ.